شرح سلامِ رضا
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ:فیضانِ اعلیٰ حضرت

موضوع:شرح سلامِ رضا

*بنتِ اشرف عطاریہ مدنیہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔157

قطب ِ ابدال و اِرشاد و رُشدُ الرَّشاد

مُحیِ دین و ملت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کے معانی:رشد الرشاد:ہدایت کے پیشوا۔محی: زندہ کرنے والے۔

مفہومِ شعر:ولایت کے تمام مراتبِ عالیہ کے حامل، ابدال و ارشاد کے قطب، ہدایت کے پیشوا اور دین و ملت کو زندہ کرنے والے حضور غوثِ اعظم پر لاکھوں سلام۔

شرح:اولیاء اللہ دو طرح کے ہوتے ہیں:(1)جو فرائض و نوافل اور اطاعتِ خدا و مصطفےٰ کے ذریعے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں،یہ حضور کی امت میں بےشمار ہیں، بلکہ جہاں 40 نیک مسلمان جمع ہوں وہاں ایک دو ولی ضرور ہوتے ہیں،بسا اوقات تو خود ان کو اپنی ولایت کا علم بھی نہیں ہوتا،(2)وہ اولیا کہ جنہیں نہ صرف اپنی ولایت کا ادراک ہوتا ہے بلکہ انہیں دنیا پر تصرف کا اختیار بھی ہوتا ہے، پہلی قسم کی ولایت تشریعی اور دوسری تکوینی کہلاتی ہے،تکوینی اولیا کی تعداد مخصوص ہے،غوث، قطب اور ابدال وغیرہ اسی کی اقسام ہیں۔([1]) حضور غوثِ پاک ولایت کے ان تمام مراتب و اقسام کے جامع ہیں۔آپ نے دینِ اسلام کی وہ خدمت کی کہ محی الدین(یعنی دین کو زندہ کرنے والے)کے لقب سے مشہور ہوئے۔آپ نے اس لقب کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ 511 ھ میں بغداد کی طرف آتے ہوئے راستے میں مجھے ایک بیمار اور کمزور شخص ملا جس نے میرا نام لے کر سلام کیا اور قریب آنے کو کہا،جب میں قریب ہوا تو اس نے مجھ سے سہارا طلب کیا، میں نے سہارا دیا تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کا جسم صحت مند ہونے لگا، پھر اس نے بتایا:میں دینِ اسلام ہوں،قریب الموت ہو گیا تھا، اللہ پاک نے آپ کی وجہ سے مجھے زندگی دی اور آپ محی الدین ہیں۔اس کے بعد میں جامع مسجد آیا تو کسی نے مجھے یا سیدی محی الدین کہہ کر پکارا، نماز سے فارغ ہوا تو لوگ ہر طرف سے آنے لگے، میرا ہاتھ چومتے اور مجھے محی الدین کہتے، اس سے پہلے مجھے کسی نے محی الدین نہیں کہا تھا۔([2])

158

مردِ خیلِ طریقت پہ بے حد درود

فَردِ اہلِ حقیقت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کے معانی:مردِ خیلِ طریقت:طریقت کے سربراہ۔ فردِ اہلِ حقیقت:اہلِ حقیقت کے سردار۔

مفہومِ شعر:اہلِ طریقت کے سر براہ اور حقیقت و معرفت میں بے مثل و مثال یعنی سرکارِ غوثِ اعظم پر لاکھوں درود و سلام۔

شرح:حضور غوثِ اعظم طریقت پر چلنے والوں میں سب سے کامل و اکمل اور معرفتِ ربانی میں منفرد ہیں، طریقت و معرفت میں آپ کا کوئی ثانی نہیں آپ بادشاہ ہیں،جیسا کہ منقول ہے:آپ کے زمانے میں ایک بزرگ نے ایک روز منبر پر ایک ایسا دعویٰ کیا جو  وہاں موجود حضور غوثِ پاک کے ایک مرید کو اچھا نہ لگا کہ آپ پر کوئی اپنی فضیلت بیان کرے تو اس بزرگ نے اس مرید کو سر سے پاؤں تک کئی بار دیکھا  اور پایا کہ اس کے جسم کا کوئی رونگٹا رحمتِ الٰہی سے خالی نہیں، لہٰذا اس مرید کے پیر کے متعلق جاننے کے لئے اپنے دو مریدوں کو بغداد شریف بھیجا کہ حضور غوثِ پا ک سے جا کر عرض کریں:میں 40 سال سے قربِ الٰہی میں ہوں آپ کو آتے دیکھا نہ جاتے! یہ دونوں مرید ادھر سے چلے اُدھر غوثِ پاک نے اپنے دو مریدوں کو ان کی طرف یہ ارشاد فرما کر بھیجا کہ جو صحن میں ہو وہ دالان والے کو کیسے دیکھ سکتا ہے!اور جو دالان میں ہو وہ اندر والے کو کیسے دیکھ سکتا ہے!اور جو اس سے بھی اندر خاص جگہ میں ہو، میں اس خاص مقام میں ہوں اور اس کی نشانی یہ ہے کہ فلاں رات 12اولیا کو لباس عطا ہوئے تھے، یاد کرو کہ تم کو جو لباس ملا تھا وہ سبز تھا اور اس پر سونے سے قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ لکھا تھا،یہ سن کر شیخ عبد الرحمٰن نے سر جھکا لیا اور کہا:شیخ عبد القادر نے سچ فرمایا اور وہ بادشاہِ وقت ہیں۔([3])

159

جس کی منبر ہوئی گردنِ اَولیا

اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کے معانی:منبر:جس پہ بیٹھ کر خطبہ دیا جاتا ہے۔

مفہومِ شعر:اولیاء اللہ کی گردنیں جس قدم کے لیے منبر بنیں اس قدم کی عزت و کرامت پر لاکھوں سلام۔

شرح:حضور غوثِ اعظم طریقت و حقیقت میں اتنے بلند مقام پر فائز ہیں کہ آپ کا قدم مبارک اولیا کی گردنوں پر ہے، جیسا کہ منقول ہے کہ بغداد میں حضور غوثِ اعظم کی مجلس میں عراق کے اکثر مشائخ حاضر تھے اور آپ وعظ فرما رہے تھے کہ اچانک آپ پر مخصوص کیفیت طاری ہوئی اور آپ نے فرمایا: میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔تو یہ سن کر حضرت شیخ علی بن ہیتی  رحمۃ اللہ علیہ  اٹھے اور منبر شریف کے پاس جا کر آپ کا قدم مبارک اپنی گردن پر رکھ لیا۔بعد ازیں (یعنی ان کے بعد) تمام حاضرین نے آگے بڑھ کر اپنی گردنیں جھکا دیں۔([4])

حضور غوثِ پاک کا قدم قیامت تک آنے والے تمام اولیائے کرام کی گردنوں پر ہے۔([5]) اور اتنا بڑا دعویٰ آپ سے پہلے کبھی کسی بزرگ نے نہیں کیا،یہ وہی کر سکتا ہے جسے غیبی تائید حاصل ہو،حضور غوثِ پاک کو خدائے رحمٰن کی طرف سے قطبیتِ کبریٰ کے اعلیٰ منصب پر فائز کر کے یہ اعلان کرنے کا الہام کیا گیا تھا تاکہ دنیا کے ہر کونے میں موجود ہر ولی، قطب، ابدال اور غوث آپ کی ولایت کو تسلیم کر کے سر جھکا لے۔جیسا کہ امام ابنِ حجر مکی شافعی فرماتے ہیں:کبھی اولیائے کرام کو کلماتِ بلند(بڑی بڑی باتیں) کہنے کا حکم دیا جاتا ہے تاکہ جو ان کے بلند مقامات سے ناواقف ہے اسے پتا چلے یا شکرِ الٰہی اور اس کی نعمت کا اظہار کرنے کے لئے، جیسا کہ حضور غوثِ اعظم کے لئے ہوا کہ انہوں نے اپنے بیان میں اچانک فرمایا کہ میرا یہ پاؤں ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے، فوراً تمام دنیا کے اولیا نے قبول کیا اور ایک گروہ نے روایت کیا ہے کہ سب اولیائے جنّ نے بھی سر جھکا دئیے۔([6])

  160

شاہِ برکات و برکاتِ پیشینیاں

نو بہارِ طریقت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کے معانی:برکاتِ پیشینیاں:اسلاف کی برکات۔

مفہومِ شعر:سید برکت اللہ مارہروی  رحمۃ اللہ علیہ  بزرگوں کے فیوض و برکات کے مظہر اور باغِ طریقت میں ایک نئی روح پھونکنے والے ہیں، آپ کی ذاتِ بابرکات پر لاکھوں سلام۔

شرح:حضور غوثِ اعظم کی خدمت میں سلام پیش کرنے کے بعد اب اعلیٰ حضرت اپنے مشائخ کی خدمت میں سلام عرض کر رہے ہیں، جن میں سے صاحب البرکات و سلطان العاشقین سید برکت اللہ مارہروی  رحمۃ اللہ علیہ  بھی ہیں، آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت امام زین العابدین  رحمۃ اللہ علیہ  تک پہنچتا ہے۔آپ 26 جمادی الثانی 1070ھ بمطابق مارچ 1660 کو بلگرام(انڈیا)میں پیدا ہوئے۔آپ نے سلسلہ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ اور نقشبندیہ سے اکتسابِ فیض کیا اور آپ تمام علومِ ظاہر و باطن کے جامع تھے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ڈبل ایم اے (اردو، مطالعہ پاکستان)

گوجرہ منڈی بہاؤ الدین



[1] مراۃ المناجیح،8/584

[2] بہجۃ الاسرار، ص 109

[3] بہجۃ الاسرار، ص 61،60

[4] بہجۃ الاسرار، ص23

[5] مراۃ المناجیح، 8/268ملخصاً

[6] فتاوی حدیثیہ،ص 414


Share