Zid Aur Hat Dharmi

Book Name:Zid Aur Hat Dharmi

نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن جہنم کی آگ سے ایک گردن نکلے گی،  جس کی 2آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گی،  2 کان ہوں گے، جن سے وہ سُنے گی، ایک زُبان بھی ہوگی،جس سے وہ کلام کرے گی اور وہ کہے گی : میں 3طرح کے لوگوں کو عذاب دینے کے لیے مُسَلَّط کی گئی ہوں،  سرکش اور ہٹ دھرم پر، جو اللہ کے ساتھ غیرُاللہ کو ملائے اور تصویریں بنانے والوں پر۔([1])  

اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! یہ کتنی سخت سزا ہے،  جو ہٹ دھرم ہے،  اُسے روزِ قیامت گھسیٹ کر جہنّم میں ڈال دیا جائے گا،  اُس پر جہنّم کی آگ مُسَلَّط کر دی جائے گی۔  ہمیں چاہئے کہ ہَٹْ دھرمی اور ضِدّ سے پرہیز کریں،  جب معلوم ہو گیا کہ *یہ دِینی حکم ہے *قرآنِ کریم نے ہمیں یہ حکم دیا ہے *حدیثِ پاک میں یہ حکم آیا ہے *شریعت نے یہ فرمایا ہے،  بس پِھر اس پر عَمَل کریں،  اس پر سرِ تسلیم خم کر دیں،  ضِد اور ہٹ دھرمی سے دُور رہا کریں۔  

تکبّر اور عاجزی کی قِسمیں

ایک معلوماتی بات عرض کروں؛ تکبّر اور عاجزی کی 2،  2قسمیں ہیں۔  امام غزالی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اِن کی وضاحت کی، فرماتے ہیں: تکبّر بھی 2طرح کا ہوتا ہے اور عاجزی بھی 2طرح کی ہوتی ہے۔  

(1):ایک ہے: تواضُعِ عام (یعنی عام عاجزی)۔  مثلاً معمولی لباس،  عام سی سُواری وغیرہ پر قناعت کر لینا،  یہ عام تواضُع ہے۔  اپنے آپ کو اس سے زیادہ کا اَہْل سمجھنا (مثلاً خُود کو


 

 



[1]...ترمذی، کتاب صفۃ جہنم، باب ما جاء فی صفۃ النار، صفحہ:607، حدیث:2573۔