Book Name:Zid Aur Hat Dharmi
حالت ایسی ہے تو یہ ایمان کہاں سے لائیں گے، لہٰذا تم اُن کے اِیمان کی اُمِّید نہ رکھو...!!([1])
(1):نیک بنانے کی حِرْص
عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان کی بہت خواہش تھی کہ بنی اسرائیل کلمہ پڑھیں اور جنّت کے حق دار ہو جائیں لیکن جب یہ ایمان قبول نہ کرتے، حق بالکل واضِح ہو جانے کے باوُجُود بھی اُسے تسلیم نہ کرتے تو اِن بلند رُتبہ حضرات کو بہت دُکھ اور غم ہوتا تھا، اِس آیت میں اِنہیں تسلی دی گئی کہ غم کرنے کی بات نہیں ہے، تمہاری تبلیغ اچھی ہے، سمجھانے کا طریقہ اچھا ہے، قُصُور اُن کا ہے کہ اُن کے اندر حق بات ماننے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔([2])
یہاں سے پتا چلتا ہے کہ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نیکی کی دعوت کے بہت حریص تھے، ان کو شدید تمنّا ہوتی تھی کہ جیسے ہم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے، ایسے ہی باقی لوگ بھی کلمہ پڑھ لیں، جب کوئی حق بات قبول نہ کرتا تو اس پر بہت غمگین بھی ہو جایاکرتے تھے۔ کاش! ہمیں بھی ایسی حرص نصیب ہو جائے۔
یقین مانیئے! ہمارے مُعَاشرے(Society) میں بُرائیاں عام ہو جانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اندر نیک بنانے کی حرص نہیں رہی *خُود نماز پڑھتے ہیں مگر بےنمازیوں کو دیکھ کر دُکھ نہیں ہوتا، یہ حرص نہیں اُبھرتی کہ اِنہیں بھی نمازی بناؤں *خُود تِلاوت کرتے ہیں مگر گھر میں بچّے، زوجہ وغیرہ تِلاوت نہیں کرتے، اِس پر دُکھ نہیں ہوتا *خُود داڑھی رکھی ہوئی ہے مگر داڑھی مُنْڈانے والوں کو دیکھ کر دُکھ نہیں ہوتا *خُود گانے باجے نہیں سُنتے،