Book Name:Zid Aur Hat Dharmi
مشہور مفسرِ قرآن، حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: بدترین شخص وہ ہے جو نصیحت کی بات سُن کر اُلْٹا ضِدْ میں آجائے۔ حدیث شریف میں اِسے کبیرہ گُنَاہ فرمایا گیا ہے۔([1])
ایک عادَت یہ بھی لوگوں میں بڑھ رہی ہے کہ اپنی غلطی ماننے کی بجائے اس پر اَڑْ جاتے ہیں، یہ جانتے بھی ہیں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، پِھر بھی اپنی عزّت کی خاطِر، نفس و شیطان کے چَنْگُل (Trap)میں پھنس کر اپنی غلط بات کو دلائل سے درست ثابِت کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ یہ بھی بہت بُری عادت ہے۔ دیکھئے! اگر ہم بیمار ہیں، ہم لاکھ کہتے رہیں کہ میں بیمار نہیں ہوں، اِس پر دلائل بھی دیتے رہیں، کیا بیماری ختم ہو جائے گی؟ نہیں ہو گی۔ ایک صاحِب تھے، اُنہیں ہارٹ اٹیک آیا، بعض دفعہ آدمی صحت مند ہو تو یہ بھی ممکن ہے کہ اسے ہارٹ اٹیک (Heart Attack)آنے کا بہت زیادہ جَھٹْکا نہ لگے، اُس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اُسے سینے میں شدید دَرْد ہوئی، پِھر ٹھیک ہو گئی۔ دوست احباب نے کہا: بھائی...!! یہ کوئی عام دَرْد نہیں لگتا، چیک اپ کروا لَو! مگر یہ ماننے کو تیار نہ ہوا، اُس کا نتیجہ کیا نکلا، کچھ دِن کے بعد اسے دوبارہ ہارٹ اٹیک آیا، اب ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو پتا چلا کہ یہ دوسرا اٹیک تھا، چنانچہ اُس کا علاج شروع کیا گیا مگر اب دیر ہو چکی تھی۔ بیچارہ جان کی بازی ہار گیا۔
ایسے ہی رُوحانی امراض(حسد، تکبّر، بغض وغیرہ) کا بھی حال ہے، ہم لاکھ کہتے رہیں کہ