Zid Aur Hat Dharmi

Book Name:Zid Aur Hat Dharmi

سُنا،  چیخ کر بولے: کیوں...؟ بچے کو پیچھے کیوں کریں؟ اس کا کیا قُصُور ہے؟

اب بتائیے! اس میں بیچارے امام صاحِب کا کیا ہے،  چھوٹے بچوں کی صَف آخر میں بنانے کا حکم شریعت نے دِیا ہے۔  ہمیں چاہئےحکم مانیں *ایک صاحِب کہیں  کھانے پر بیٹھے تھے،  پاس ہی ایک صاحِبِ عِلْم بھی تھے،  دسترخوان پر اَوْجَھڑی  رکھی گئی،  اُن صاحِبِ عِلْم نے ساتھ والے کو کہا: اَوْجَھڑی کھانا مکروہ ہے،  لہٰذا یہ مَت کھائیے گا۔  اب جو ساتھ والا تھا،  اُس نے کیا کِیا،  رِکَابی(Plate) اپنی طرف کھینچی،  ساتھ ساتھ کھا بھی رہے ہیں اور ساتھ ہی اُن صاحِبِ عِلْم سے پوچھ رہے ہیں: ہیں...!! واقعی؟ اَوْجَھڑی کھانا مکروہ ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ کس حدیث میں آیا ہے؟

اَلْاَمَانُ وَالْحَفِیْظُ...!! یہ ہے: عِنَاد۔  ضِدْ اور ہَٹْ دھرمی۔   یہ عادَت ہمیں نکالنی چاہئے۔  حق بات جب بھی ہمیں بتائی جائے،  فورًا قبول کریں۔   عَمَل میں کمزوری ہونا  جُدا بات ہے،  حق بات سُن کر اَڑ جانا،  اُسے قبول کرنے کی بجائے اُلْٹا سمجھانے والے کو کوسْنا شروع کر دینا،  یہ بُری بات ہے۔  آج کل یہ بھی انداز عام ہو رہا ہے،  جب کوئی نیکی کی دعوت دیتا ہے تو لوگ اُس کی ذات میں عیب نکالنے لگتے ہیں،  مثلاً *ہاں! ہاں! آئے تم بڑے حاجی...!! *تم ہمیں سمجھاؤ گے *بڑے دیکھے تمہارے جیسے *بعض بیباک تو یہاں تک بول جاتے ہیں: مولانا...!! اپنے رستے جاؤ! ہم جانیں اور اللہ جانے۔  

کیا تجھ جیسا آدمی مجھے سمجھائے گا...؟

لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ...!! پیارے اسلامی بھائیو! یہ بہت سخت جملے ہیں۔  ایسی باتیں ہر گز زبان پر نہیں لانی چاہئیں...!!   صحابئ رسول حضرت عبد ُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: