Book Name:Zid Aur Hat Dharmi
نیکی کی دعوت کا ایک اَہَم مقصد
پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے ہاں لوگوں کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ ؛
جو مانتا نہیں، اُسے کہنا فضول ہے
یہ غلط بات ہے، ہمیں تعلیم یہ دی گئی ہےکہ وہ شخص جس کے ماننے کی بالکل اُمِّید ہی نہ رہے، نیکی کی دعوت اُسے بھی دینی ہی ہے تاکہ اس پر حُجَّت پُوری ہو جائے۔ قرآنِ کریم میں ہے: وہ لوگ جو انتہائی ضِدِّی اور ہٹ دھرم لوگوں کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ہی رہتے تھے، ان سے کہا گیا:
لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَاۙﰳ اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاؕ- (پارہ:9، الاعراف:164)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا ا نہیں سخت عذاب دینے والا ہے۔
یعنی یہ ضِدِّی اورہٹ دھرم لوگ جنہوں نے بات ماننی ہی نہیں ہے، درست رستے پر آنا ہی نہیں ہے، اُن پر عذاب ہی اُترے گا، ایسی ضِدِّی قوم کو کیوں سمجھاتے ہو؟ اُن پر اپنا وقت برباد کیوں کرتے ہو؟ اُن مُبَلِّغِیْن نے جواب دیا:
مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ (پارہ:9، الاعراف:164)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تمہارے ربّ کے حضور عُذر پیش کرنے کے لئے۔
یعنی یہ مانیں یا نہ مانیں، ہمارا کام ہے نیکی کی دعوت دینا، اگر مان لیں گے تو اُن کا بھلا، نہ مانیں گے تو ہم کم از کم اپنے رَبّ کے حُضُور یہ عُذر تو پیش کر سکیں گے کہ مولیٰ! ہم نے سمجھایا تھا۔