Zid Aur Hat Dharmi

Book Name:Zid Aur Hat Dharmi

اللہ پاک کے ہاں بڑے گُنَاہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کو جب کہا جائے کہ اللہ پاک سے ڈَر! تو وہ آگے سے کہے: تُو اپنی فِکْر کر...!! کیا تجھ جیسا آدمی مُجھے حُکم دے گا؟([1])

اللہ! اللہ! اندازہ کیجئے! یہ کتنا سخت جُرْم ہے۔  ہمارے ہاں تو ایسی باتیں عام ہیں۔  لوگ نیکی کی دعوت دینے والے کو بڑی دلیری سے کہہ دیتے ہیں: جاؤ! بھائی اپنا کام کرو...!! لیکچر مت سُناؤ...!!

اَنَا کا مسئلہ بنانا

ایک مُنَافق تھا: اَخْنَس بِن شُرَیْق۔  قرآنِ کریم میں یہ اس کا وَصْف بیان ہوا کہ 

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ (پارہ:2،البقرۃ:206)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو! تو اسے ضِدْ مزید گُناہ پر اُبھارتی ہے۔

یعنی یہ مُنَافق اتنا سخت دِل اور بدباطِن ہے کہ جب کوئی مسلمان اُسے سمجھائے،  نیکی کی دعوت دے،  کہے کہ گُنَاہوں سے باز رہو...!! اللہ پاک سے ڈرو! تو اُس کی جُھوٹی عزّت اُسے اور بھی زیادہ گُنَاہوں پر اُبھار دیتی ہے،  یہ بات ماننے کی بجائے کہتا ہے: مجھ عزّت والے کو اِس معمولی مسلمان نے نصیحت کی،  اب تو میں ڈبل(Double) گُنَاہ کروں گا۔([2])

اس مُنَافق بدبخت کی سزا کیا ہے؟ یہ بھی سُن لیجئے! اللہ پاک نے فرمایا:

فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُؕ-وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ(۲۰۶) (پارہ:2، البقرۃ:206)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ایسے کو جہنم کافی ہے اور وہ ضرور بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔


 

 



[1]... معجم کبیر، من اسمہ عبداللہ، جلد:4، صفحہ:469، حدیث:8508۔

[2]...تفسیر طبری، پارہ:2،سورۂ بقرۃ، زیرِ آیت:206، جلد:2، صفحہ:331 و 332 بتغیر قلیل۔