Book Name:Zid Aur Hat Dharmi
بنی اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی ایک مثال
روایات میں ہے: جب پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہجرت کر کے مدینہ پاک تشریف لائے تو اس وقت کے بنی اسرائیل کے سب سے بڑے عالم حضرت عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، جیسے ہی چہرۂ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہوئی تو پہچان گئے کہ اَنَّ وَجْہَہٗ لَیْسَ بِوَجْہٍ کَذَّابٍ بیشک یہ چہرہ کسی جھوٹے کا ہو ہی نہیں سکتا۔([1]) آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم دعوئِ نبوت میں یقیناً سچے ہیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عنہ نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے۔
آپ نے کلمہ پڑھنےکے بعد عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! بنی اسرائیل بہت ضِدِّی قوم ہے، اگر میرا اِیمان قُبول کرنا اُن پر یُونہی واضِح کر دیا گیا تو مجھے بُرا بَھلا کہیں گے، مجھے قِسْم قِسْم کے اِلْزام لگائیں گے۔
اب رسولِ ذیشان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے کیا کِیا کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عنہ کو چُھپا دیا اور اُن کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل سے پُوچھا: بتاؤ! عبد اللہ بن سلام کیسا آدمی ہے...؟ بولے: واہ..! واہ! اُن کی تو کیا ہی شان ہے، وہ ہمارے سب سے بڑے عالِم ہیں، اُنہی سے تو ہماری شان ہے، ہماری پُوری قوم کا سرمایہ ہیں۔
اب حضرت عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عنہ سامنے تشریف لائے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مُحَمَّدمصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کے سچّے رسول ہیں۔ بس یہ سُننا تھا کہ بنی اسرائیل تو کھڑے کھڑے ہی اپنی بات سے پِھر گئے، کہنے لگے:ہاں!ہاں! یہ تَو ہیں ہی