Book Name:Zid Aur Hat Dharmi
دوسروں سے برتَر اور دوسروں کو حقیر سمجھنا) یہ عام تکبّر ہے۔
(2):دوسری ہے: خاص تواضُع (یعنی خاص عاجِزی)۔ یہ کیا ہے: خُود کو حق بات قبول کر لینے کا عادِی بنانا۔ اور اِس کا اُلٹ جو ہے، یعنی حق بات قبول کرنے سے گُریز کرنا، خُود کو اِس سے برتَر اور بڑا سمجھنا، یہ تکبّرِ خاص ہے۔([1])
افسوس کے ساتھ آج کل ہمارے ہاں بھی ضِدِّی پَن (یعنی یہ خاص تکبّر جو ہے، یہ) بڑھ رہا ہے *کتنے ایسے لوگ ہیں جو حق بات سُننے کو ہی تیار نہیں ہوتے، سُنتے ہیں تو ماننے کو تیار نہیں ہوتے *نیکی کی دعوت سُن کر حیلے بہانے کرنا *چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنی اَنَا کا مسئلہ بنا لینا عام ہے *بہت لوگ ہیں ،جو نصیحت کئے جانے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں *گھروں میں دیکھ لیں تو لڑکی والے، لڑکے یا اس کے گھر والوں کو نہیں سمجھا سکتے *چھوٹے خاندان والے بڑے خاندان والے کو نہیں سمجھا سکتے *عام آدمی کسی بڑےکو نہیں سمجھا سکتا *عوام کسی دُنیوی منصب والے کو نہیں سمجھا سکتے *مسجدوں میں کوئی نوجوان عالِم یا دِینی مُبَلِّغ کسی پُرانے بُوڑھے کو نہیں سمجھا سکتا، لوگ سمجھانے پر بِپھر جاتے ہیں، نیکی کی دعوت کو اپنی اَنَا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، خطرہ رہتا ہے کہ میں اچھی بات بتاؤں تو کہیں سامنے والے گلے ہی نہ پڑ جائیں *ایک مرتبہ ایک امام صاحِب نے جماعت شروع ہونے سے پہلے اِعْلان کیا: چھوٹے بچوں کو صفوں میں کھڑا مت کیجئے! چھوٹے بچوں کی صف سب سے آخِر میں بنائیے! ایک صاحِب اپنے چھوٹے بچے کو ساتھ لے کر پہلی صف میں کھڑے تھے، جیسے ہی امام صاحِب کا اِعْلان