Zid Aur Hat Dharmi

Book Name:Zid Aur Hat Dharmi

گناہوں کی نُحُوست دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی ہے

اس حدیثِ پاک کے تَحت مِرْآۃُ الْمَناجِیْح میں ہے:اِس حدیث شریف میں ایک مثال کے ذَرِیعے بُرائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کوواضِح کیا گیا اور بتایا گیا کہ اگر یہ سمجھ کر  اَمْرٌ بِّالْمَعرُوفِ وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ (یعنی نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے) کا فریضہ چھوڑ دیا جائے کہ بُرائی کرنے والا خُود نقصان اُٹھائے گا،   ہمارا کیا نقصان ہے ! تو یہ سوچ غَلَط ہے، اِس لیے کہ اُس کے گناہ کے اَثرات تمام مُعاشَرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں،  جس طرح کشتی توڑنے والا اکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جو کشتی میں سُوار ہیں،  اِسی طرح بُرائی کرنے والے چند افراد کا یہ جُرم تمام مُعاشَرے میں ناسُور بن کر پھیلتا ہے۔([1])   

آئیے! بارگاہِ رسالت میں استغاثہ پیش کرتے ہیں:

عطا کر دو مجھے اِسلام کی تبلیغ کا جذبہ

مَیں بس دیتا پھروں نیکی کی دَعوت یارسولَ اللہ!

مجھے تم مَسلکِ اَحْمَد رَضا پر اِستقامت دو

بنوں      خِدْمت      گُزارِ      اَہْلِ      سُنّت      یارسولَ       اللہ!([2])


 

 



[1]...مرآۃ المناجیح، جلد:6، صفحہ:533۔

[2]...وسائلِ بخشش ، صفحہ:333 و 334 ملتقطًا۔