Book Name:Zid Aur Hat Dharmi
روایات میں ہے: جب پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، اس وقت آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے یہاں موجود بنی اسرائیل کو اِسلام کی دعوت دی اور اُنہیں اللہ پاک کی کتاب کی طرف بُلایا مگر اُن میں سے بہت بدنصیب اللہ پاک کی کتاب اور دِین حق کو جُھٹلانے لگ گئے۔([1]) اِس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی، اللہ پاک نے فرمایا:
اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ (پارہ:1، البقرۃ:75)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو اے مسلمانو! کیا تم یہ اُمّید رکھتے ہو کہ یہ تمہاری وجہ سے ایمان لے آئیں گے۔
یعنی اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اور اے میرے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ...!! کیا تم اُمِّید رکھتے ہو کہ یہ بنی اسرائیل تمہاری تبلیغ کو سُنیں گے، اُسے مان کر اِسلام قُبُول کر لیں گے؟ اِن سے یہ اُمِّید نہ رکھو! کیونکہ یہ سرکش قوم ہے۔
وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۷۵) (پارہ:1، البقرۃ:75)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:حالانکہ ان میں ایک گروہ وہ تھا کہ وہ اللہ کا کلام سنتے تھے اور پھر اُسے سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر بدل دیتے تھے۔
یعنی اِن میں ایک گروہ ایسا بھی ہے کہ وہ اللہ پاک کے کلام یعنی تورات شریف کو پڑھتے ہیں، سُنتے ہیں، اُسے سمجھتے ہیں پِھر جان بُوجھ کر اُس میں تبدیلیاں کر دیتے ہیں۔ جب اِن کی