Book Name:Zid Aur Hat Dharmi
اچھی بات ہے مگر گانے باجے سُننے والوں کو دیکھ کر دُکھ نہیں ہوتا، دُکانوں پر، گاڑیوں میں، ہوٹلوں پر گانے باجے(Music) چل رہے ہوتے ہیں، انہیں نیکی کی دعوت دینے کی ہمّت نہیں پڑتی۔
یہ جو ہمارے اندر ایک کمزوری آ گئی ہے کہ نیک بنانے کا جذبہ کم پڑ گیا ہے، نیکی کی دعوت دینے کا رُجحان ختم ہو رہا ہے، اللہ پاک کی نافرمانی ہوتے دیکھ کر بھی دِل دُکھتا نہیں ہے، اِس بُرائی کی وجہ سے ہزاروں بُرائیاں جنم لے رہی ہیں۔
دو عالم کے مالک و مُختار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالی شان ہے: حُدُودُ اللہ پھلانگنے (یعنی خُدائی اَحْکام کی خِلاف ورزی کرنے) والوں اور اس معاملے میں مداہنت کا شِکار ہونے (یعنی طاقت کے باوُجُود بُرائی سے منع نہ کرنے) والوں کی مثال یُوں ہے کہ کچھ لوگ ہیں، وہ کشتی پر سُوار ہوئے، آپس میں قرعہ ڈالا، پِھر کچھ کشتی کے اُوپَر والے حصّے میں چلے گئے، کچھ نیچے والے حصّے میں رہ گئے۔ اب نیچے سے ایک شخص پانی لینے اُوپَر والے حصّے میں جاتا، اس سے اُوپَر والوں کو تکلیف ہوتی، چنانچہ اس نیچے والے شخص نے کلہاڑی لی اور کشی کے نچلے حصّے میں سُوراخ کرنے لگا، اُوپَر کے حصّے والے آئے، پوچھا: ارے! یہ کیا کرتے ہو؟ کلہاڑی والا شخص بولا: مجھے پانی چاہئے اور تمہیں پانی دینے میں تکلیف ہوتی ہے، لہٰذا سوراخ کر کے نیچے سمندر سے پانی لینے لگا ہوں۔ پیارے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اگر تو یہ لوگ اس کے ہاتھ سے کلہاڑی چھین لیں گے تو سبھی بچ جائیں گے، اگر اسے سوراخ کرنے دیں گے تو (کشتی میں پانی بھر جائے گا اور) سبھی ڈُوب کر ہلاک ہو جائیں گے۔([1])