Book Name:Zid Aur Hat Dharmi
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠(۷) (پارہ:1، البقرۃ:7) تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پَردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے بہت بڑاعذاب ہے۔
حکیم الاُمَّت، مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ضِدْ کا عِلاج کسی عالِم کے پاس نہیں اور وَہْم کی دوا کسی طبیب کے پاس نہیں، جسے رَہْبَر (یعنی اِصْلاح کرنے والے) کی ذات سے دُشمنی ہو، وہ اُس کی ہر بات کا اِنْکار ہی کرتا ہے۔([1])
اے عاشقانِ رسول ! غلطی مان لینا بے عِزَّتی نہیں بلکہ عِزَّت کی بات ہے، مَعْصُوم (یعنی غلطی سے بالکل پاک) صِرْف انبیا علیہم السَّلَام اَور فرشتے ہیں، اِن کے عِلاوہ ہر اِنْسَان سے خَطا ہو سکتی ہے، البتہ ہِدایَت ہمیشہ وہ پاتا ہے جو اپنی غلطی مانے اور سَنْجِیدگی کے ساتھ اپنی اِصْلاح کی کوشش کرے۔ حدیثِ پاک میں ہے:کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّاءٌ وَ خَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُّوْنَ ہر اِنْسان سے غلطی ہوتی ہے، غلطی کرنے والوں میں بہترین وہ ہے جو توبہ کرے۔([2])
نیک بندوں کی یہ عادَت ہوتی ہے کہ وہ چاہے غلط نہ ہوں، تب بھی نیکی کی دعوت کو فورًا قبول کر لیتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت مالِک بن مِغْوَل رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کو کسی نے کہا: اِتَّقِ اللہ! اللہ سے ڈرو...!! آپ نے عاجِزی کرتے ہوئے فورًا اپنا رُخْسَار زمین پر رکھ دیا۔([3])