Zid Aur Hat Dharmi

Book Name:Zid Aur Hat Dharmi

صَدَقَ اللہُ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:تو اے مسلمانو! کیا تم یہ اُمّید رکھتے ہو کہ یہ تمہاری وجہ سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں ایک گروہ وہ  تھا کہ وہ اللہ کا کلام سنتے تھے اور پھر اُسے سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر بدل دیتے تھے۔

پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے پارہ:1،  سُورۂ بقرہ کی آیت: 75 سُننے کی سعادت حاصِل کی۔  پہلے عرض کیا گیا تھا کہ پہلے سپارے میں آیت: 40 سے لے کر آخر تک بنی اسرائیل سے خطاب ہے۔  

بنی اسرائیل یعنی اللہ پاک کے نبی حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کی اَوْلاد۔ حضرت یوسُف عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے گیارہ بھائی جو تھے، اُنہیں اور جو اُن سے آگے اَوْلاد چلی، ان سب کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔

اِن تقریباً 100 آیات کے 3حصّے(Parts) ہیں: (1):پہلے حصّے میں وہ بنی اسرائیل جو پیارے آقا،  مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری سے پہلے اِس دُنیا میں تھے،  اُن کی بُرائیوں،  نافرمانیوں اور سرکشی کا ذِکْر ہے (2):دوسرے حصّے میں اُن بنی اسرائیل کا ذِکْر ہے،  جو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہِری زندگی مبارَک میں موجود تھے (3):تیسرے حصّے میں بنی اسرائیل کے اِسلام کے خِلاف کئے گئے اعتراضات کے جواب ہیں۔  

آیت:75 سے دوسرا حصّہ شروع ہو رہا ہے،  یعنی اِس سے پہلے کی آیات تک پچھلے زمانوں کے بنی اسرائیل کا ذِکْر تھا،  اب یہاں سے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری زندگی مُبارَک میں موجود بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا ذِکْر شروع ہو رہا ہے۔