Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye
رہے ہو مگر یہ نہ مانے، اللہ پاک کی نافرمانی کرتے رہے، گُنَاہ چھوڑنے اور توبہ کرنے کو تیار نہ ہوئے، آخر اُن کی مسلسل نافرمانی کے سبب اللہ پاک کاقَہْر اُن پر برس پڑا، ایک صبح کو دیکھا گیا کہ نافرمانوں کے چہرے مَسْخ ہو چکے تھے اور یہ سب نافرمان بندر بن چکے تھے۔ ([1]) اِن آیات میں اِسی واقعہ کا ذِکْر ہے، ارشاد ہوتا ہے:
وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ (پارہ:1، البقرۃ:65)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور یقیناً تمہیں معلوم ہیں
یعنی اَے بنی اسرائیل! تم جانتے ہو، تمہارے بچے بچے کو مَعْلُوم ہے، کیا؟
الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْت (پارہ:1، البقرۃ:65)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: وہ لوگ جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دِن میں سرکشی کی۔
یعنی اُن لوگوں کا واقعہ جنہوں نے ہفتے کے دِن شکار کر کے سرکشی کی اور حَدْ سے بڑھے۔ پِھر کیا ہوا؟
فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـٕیْنَۚ(۶۵) (پارہ:1، البقرۃ:65)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ہم نے اُن سے کہا کہ دُھْتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔
روایات کے مطابق اللہ پاک کا قہر برسنے سے یہ سب نافرمان بندر بن گئے، یعنی اُن کی شکلیں بگاڑ دی گئیں، عقل بھی سلامت تھی، حوّاس بھی درست تھے، بس بولنے کی طاقت نہ تھی اور جسم بندروں جیسے ہو گئے تھے۔([2])
حکیم الامت، مفتی اَحْمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اِس جگہ فرمایا: بندر ایک خوبصُورت جانور ہے، بعض لوگ اِسے پالتے بھی ہیں، اِس کی بچگانہ حرکتیں دیکھ کر خوش بھی ہوتے