Bagh Walon Ka Waqiya

Book Name:Bagh Walon Ka Waqiya

نے فرمایا تھا، بالکل ویسا ہی ہوا، میں راہِ خُدا میں خرچ کرتا رہا، اب الحمد للہ! میں اپنے پُورے خاندان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔([1])  

سُبْحٰنَ اللہ! ہمارے ہاں *جو لوگ غربت کا رونا روتے رہتے ہیں *حالات اچھے نہیں ہیں *کام نہیں چل رہا *قرض چڑھ گیا ہے *مہنگائی نے کمر توڑ ڈالی ہے، عمومًا اُن کا یہ انداز ہوتا ہے کہ یہ راہِ خُدا میں خرچ نہیں کرتے، ایک ذہن بنا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے جو ہم خرچ کریں گے...؟ یہ غلط سوچ ہے، چاہے ایک روپیہ ہی صدقہ کر سکتے ہوں، صدقہ کریں، راہِ خُدا میں خرچ کیا کریں، اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! رِزْق میں بَرَکت ہو جائے گی۔

مال میں اِضَافہ ہو گیا

بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا، بیچارہ بہت غریب تھا، ایک مرتبہ اُس پر ایسا وقت بھی آیا کہ 3 دِن تک کچھ کھایا ہی نہیں۔ آخر تیسرے دِن اُس کی زوجہ نے ایک دِرْہَم (یعنی چاندی کا ایک سکہ) دیا اور کہا: جاؤ! کھانا خرید لاؤ...!! وہ 3دِن کا بُھوکا شخص کھانا خریدنے بازار جا رہا تھا، راستے میں کوئی سُوالی مِلا، اُس نے وہ دِرْہَم سُوالی کو دے دیا اور خالی ہاتھ گھر آ گیا۔ زوجہ کو بتایا کہ ایک سُوالی تھا، میں نے دِرْہَم اُسے دے دیا۔ زوجہ بھی صبر والی تھی، بولی: اچھا کیا۔ پِھر زوجہ نے اُون کاتنے کا چرخہ دیا کہ جاؤ! یہ بیچ کر کھانا لے آؤ...!! اب یہ شخص چرخہ لے کر بازار پہنچا، اُسے بیچا، جو پیسے ملے ان سے ایک مچھلی خرید کر گھر آ گیا۔

جب مچھلی کو کاٹا گیا تو اُس میں سے ایک موتی نکلا۔ موتی بہت قیمتی تھا، اُس نے وہ موتی بازار میں فروخت کیا، اُسے کافی ساری رقم مِل گئی، چُنانچہ کل تک جو بہت غریب تھا، کھانے


 

 



[1]...معجم اوسط، من اسمہ معاذ، ، جلد:6، صفحہ:210، حدیث:8536۔