Book Name:Bagh Walon Ka Waqiya
جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ اللہ پاک ہمیں عَمَل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
(3):کنجوسی نقصان دِہ ہے
پیارے اسلامی بھائیو! باغ والوں کے قرآنی واقعہ سے تیسرا سبق ہمیں مِلا کہ صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، ہاں! صَدَقَہ نہ کرنے سے مال میں کمی آ سکتی ہے۔ دیکھئے! وہ نیک شخص جو باغ کا مالِک تھا، وہ اللہ پاک کی راہ میں خرچ کیا کرتا تھا، اُس کے مال میں بَرَکت تھی، اللہ پاک نے اُسے خُوب مال و دولت سے نوازا تھا، اُس کی اَوْلاد نے خَطَا کی، اپنے والِد کے نقشِ قدم پر نہ چلے کنجوسی کی، صدقہ و خیرات سے ہاتھ کھینچا، نتیجہ کیا ہوا...؟ سارے کا سارا باغ جَل کر خَاک ہو گیا۔
پتا چلا؛ کنجوسی نقصان دِہ ہے اور صدقہ و خیرات کرنا دُنیا میں بھی فائدہ مند ہے، آخرت میں بھی فائدہ مند ہے۔
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
مَا مِنْ یَّوْمٍ یُصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ، اِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ، فَیقوْلُ اَحَدُھُمَا: اَللّٰھُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا،وَیَقُوْلُ الْآخَرُ: اَللّٰہُمَّ اَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا
ایسا کوئی دِن نہیں جس میں بندے سویرا کریں اور 2فرشتے نہ اُتریں جن میں سے ایک تو کہتا ہے: اے اللہ پاک! سخی کو زیادہ اچھا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ