Book Name:Bagh Walon Ka Waqiya
سخاوت کا بھی سبق موجود ہے۔ دیکھئے! وہ نیک شخص جو اُس باغ کا مالِک تھا، وہ خُود بڑا سخی تھا، دِل کھول کر غریبوں، مسکینوں پر خرچ کیا کرتا تھا، اُس کا اللہ پاک پر تَوَکُّل (بھروسہ) بڑا مضبوط تھا، وہ جانتا تھا کہ میں غریبوں پر خرچ کروں گا تو اللہ پاک میرے رِزْق میں بَرَکت ہی دے گا مگر اَفسوس ! اُس کی اَوْلاد نے اپنے والِد سے یہ بات نہ سیکھی، یہ سخی نہ بنے، نتیجہ کیا نکلا؟ اُنہوں نے خُود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی یعنی اپنا باغ اپنی غلطی کے سبب تباہ کر دیا۔
اِس سے سبق ملتا ہے کہ ہماری اَوْلاد کو مال و دولت سے زیادہ تَوَکُّل و سخاوت کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں ہوتا ہے، مثلاً*بیٹے ہیں، اُن کے لئے 2پلاٹ خرید کر رکھ دُوں *اَوْلاد کے لئے ڈھیر سارا مال جمع کردُوں *اپنی تو جیسے کٹی کٹ گئی، میں چاہتا ہوں، اَوْلاد کو مشقت نہ ہو، لہٰذا مال جمع کر رہا ہوں۔ اچھی بات ہے، اَوْلاد کے لئے سامان کریں مگر *اُن کے اندر نیک عادات آ رہی ہیں یا نہیں؟ اِس کی زیادہ فِکْر کریں *بچے کے اندر سخاوت ہے یا نہیں ہے؟ *بچہ اللہ پاک پر بھروسہ کر رہا ہے یا نہیں کر رہا، اِس کی زیادہ فِکْر کریں *اُسے شکر کرنا سکھائیں*تَوَکُّل سکھائیں *اللہ پاک پر بھروسہ کرنا بھی سکھائیں *یہ بھی بتائیں کہ رِزْق صِرْف اللہ پاک ہی دیتا ہے *یہ بھی سکھائیں کہ شکر کرنے سے نعمت بڑھتی ہے *ناشکری کرنے سے چِھیْن لی جاتی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے لئے مال تو بہت چھوڑ جائیں مگر وہ ناشکری کر کے اللہ پاک کے غضب کا شکار ہو جائیں۔
بچوں کو یہ سب سکھانے کے لئے انہیں باقاعِدہ مشق(Practice) کروانی پڑے گی۔
اَوْلاد کو تَوَکَّل سِکھانے کا طریقہ
ایک بزرگ تھے: حضرت اَحْمد بن حَرب رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ ۔ آپ نے اپنے بیٹے کو تَوَکُّل کی