Book Name:Bagh Walon Ka Waqiya
بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک شرعِی مسئلہ عرض کرتا ہوں:
(درست شرعی مسئلہ اور عوام میں پائی جانے والی غلط فہمی کی نشاندہی)
مسئلہ: عورت کا اکیلے سفر کرنا نَاجائز و گناہ ہے۔
وضاحت: بڑا اہم مسئلہ ہے، آج کل چونکہ سفری سہولیات ہو گئی ہیں، سفر کافی آسان ہو چکے ہیں، شاید اِس وجہ سے لوگ اِس مسئلے کی طرف تَوَجُّہ نہیں کرتے، عمومًا عورتیں تنہا سفر کرتی ہیں، حج و عمرہ کے لئے بھی مَحْرَم کے بغیر جاتی ہیں، یاد رکھ لیجئے! عورت کا اپنے مَحْرَم رشتے دار (مثلاً والِد، بھائی، بیٹے) یا شوہَر کے بغیر 92 کلومیٹر یا اِس سے زیادہ کا سَفَر کرنا نَاجائِز و گُنَاہ ہے، حج و عمرہ کے لئے بھی نہیں جا سکتی، 2 یا 4 عورتیں مِل کر بھی سَفَر نہیں کر سکتیں۔ بخاری شریف میں ہے: نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا تُسَافِرِ الْمَرْاَةُ اِلَّا مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ یعنی عورت بغیر مَحْرَم کے سفر نہ کرے۔([1]) اللہ پاک ہمیں دُرست اسلامی اَحْکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
بیماری اور تنگدستی سے نجات(وظیفہ)
یَارَزَّاقُ، یَا رَحْمٰنُ، یَا رَحِیْمُ، یَاسَلَامُ
جو شخص بِلا ناغہ7دِن تک ہرنَماز کے بعد یَارَزَّاقُ، یَا رَحْمٰنُ، یَا رَحِیْمُ، یَاسَلَامُ 112