Bagh Walon Ka Waqiya

Book Name:Bagh Walon Ka Waqiya

غرض؛ ہمیں یہ بات اپنے ذِہن میں بٹھانی چاہئے کہ اِس دُنیا میں مرضِی صِرْف اللہ پاک کی چلتی ہے، اِس لئے ہمیں چاہئے کہ طاقت، عہدے اور مال و دولت وغیرہ کے غرور میں نہ آیا کریں،اللہ پاک کے حُضُور سَر جُھکا کر رکھیں۔ اِن باغ والوں کو دیکھئے! اُن کا ایک بڑا عیب جو یہاں بیان ہوا، وہ پوشیدہ اَسباب جن کی وجہ سے اُن کا باغ تباہ ہو گیا، اُن میں سے ایک عیب یہ تھا:

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ(۱۸) (پارہ:29، القلم:18)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اَور اِنْ شَآءَ اللہ نہیں کہہ رہے تھے ۔

یعنی اُنہوں نے خُود پر بھروسا کیا، یہ سمجھا کہ جو ہم چاہ رہے ہیں، وہی ہو کر رہے گا جبکہ ایسا نہیں تھا۔ جب باغ جَل گیا، آفت برس گئی، یہ تباہ ہو گئے، تب کہنے لگے:

لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ(۲۸) (پارہ:29، القلم:28)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟

یہ ہمارے لئے سبق ہے، ہمیں چاہئے کہ جب بھی کوئی کام کرنا ہو، کسی بات کا اِرادہ کریں تو *اپنی طاقت *اپنی فنکاری *مہارت اور *صلاحیات پر بھروسہ نہ کریں بلکہ اللہ پاک سے اِسْتِعَانَت کریں یعنی اُس سے مدد چاہا کریں۔

اللہ پاک مدد گار  ہے، ہم محتاج

اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴) ( پارہ : 1 ، الفاتحہ : 4 )

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔

آیت کے اس حِصّے میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ ہم اپنے اندر سے مَیْں ختم کریں،