Book Name:Bagh Walon Ka Waqiya
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:بیشک ہم نے اُنہیں جانچا جیسا باغ والوں کو جانچا تھا جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اُس باغ کو کاٹ لیں گے اور اِنْ شَآءَ اللہ نہیں کہہ رہے تھے تو اس باغ پر تیرے ربّ کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیری کر گیا جبکہ وہ سو رہے تھے۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے پارہ:29، سورۂ قلم کی چند آیات سُننے کی سَعَادت حاصِل کی، اِن آیات میں ایک خُوبصُورت اور سبق آموز واقعہ بیان ہوا ہے، آئیے! پہلے وہ واقعہ سُنتے ہیں، پِھر اِس سے ملنے والے سبق سیکھیں گے۔
علمائے کِرام اِن آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یَمَن کا ایک شہر ہے: صَنْعَاء۔اِس شہر کا رہنے والا ایک شخص بہت نیک اورسخی تھا، اُس کے پاس ایک خُوب صُورت باغ تھا، اُس شخص کی عادَت تھی کہ باغ کے جتنے پھل خود بخود زمین پر گِر جاتے، یہ فقیروں کو کہتا کہ یہ سارے پھل تمہارے ہیں، تم اُٹھا لو! پھر جب باغ سے پھل توڑے جاتے تو دَرختوں کے نیچے کپڑے بچھا دئیے جاتے، جو پھل کپڑوں پر گِرتے، وہ بھی فقیروں کو دے دیتا، پھر جو خالِص اُس کا اپنا حصہ ہوتا، اُس میں سے بھی 10 واں حصہ فقیروں کو دے دیا کرتا تھا۔
اُس شخص کے 3 بیٹے تھے اور تینوں ہی کنجوس تھے، جب اُس شخص کا اِنتقال ہوا تو باغ اِن تینوں بیٹوں کے قبضے میں آیا،اَب اُنہوں نے سوچا؛ ہمارے والِد اکیلے تھے، وہ اتنی سخاوت کر لیا کرتے تھے، فقیروں کو اتنا مال دینے کے بعدبھی اُن کےلئے کافِی کچھ بچ جاتا تھا مگر ہم 3ہیں، پھر ہماری اَوْلادیں بھی ہیں، اگر ہم بھی اِسی طرح سخاوت کریں گے تو