Book Name:Bagh Walon Ka Waqiya
بھی کیا کریں، یقین رکھئے! راہِ خُدا میں دیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! مال کم نہیں ہو گا، مزید بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے قسم کھا کر فرمایا: مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِنْ صَدَقَة ٍیعنی صدقہ کرنے سے آدمی کا مال کم نہیں ہوتا۔([1])
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)(پارہ:3، البقرۃ:261)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اُن لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانے کی طرح ہے جِس نے سات بالیاں اُگائیں، ہر بالی میں سو دانے ہیں اور اللہ اُس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اِس آیت میں راہِ خُدا میں خرچ کرنے والوں کی فضیلت ایک مثال کے ذریعے بیان کی جارہی ہے کہ یہ ایسا ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں ایک دانہ بیج ڈالتا ہے، جِس سے 7 بالیاں اُگتی ہیں اور ہر بالی میں 100دانے پیدا ہوتے ہیں۔ گویا ایک دانہ بیج کے طور پر ڈالنے والا 7سو گُنا زیادہ حاصِل کرتا ہے ، اِسی طرح جو شخص راہِ خدامیں خرچ کرتا ہے اللہ پاک اُسے اُس کے اِخْلَاص کے اعتبار سے 7سو گُنا زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے اور یہ بھی کوئی حد نہیں بلکہ اللہ پاک کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور وہ کریم و جَوَّاد