Bagh Walon Ka Waqiya

Book Name:Bagh Walon Ka Waqiya

کو پیسے نہیں تھے اچانک سے بہت امیر ہو گیا۔ پِھر ایک دِن اُس کے پاس ایک سُوالی آیا۔ مَاشَآءَ اللہ! یہ شخص اتنے بڑے دِل کا تھا کہ اُس نے آدھا مال سُوالی کے سامنے کیا اور کہا: یہ لو! میرا آدھا مال تم لے لو، آدھا میں رکھ لیتا ہوں۔ اُس کی ایسی کمال سخاوت دیکھ کر سُوالی بولا: تمہارا مال تمہیں ہی مبارَک ہو، میں اَصْل میں فِرشتہ ہوں، وہ ایک دِرْہَم جو تم نے بھوکا ہونے کے باوُجُود سُوالی کو دیا تھا، اللہ پاک نے اُس کے بدلے تمہارے لئے 100 قیراط اَجْر مقرر فرمایا، یہ جو دولت تمہیں عطا ہوئی ہے، یہ اُن 100 قیراط میں سے ایک قیراط ہے۔([1])  

پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے ہمیں معلوم ہوا کہ غریبوں پر اگرچہ زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی، البتہ اُنہیں بھی چاہئے کہ جتنا ہو سکے صدقہ و خیرات کرتے ہی رہا کریں، دیکھئے! یہ شخص غریب تھا، 3دِن کا بھوکا تھا، پِھر بھی اُس نے ایک دِرْہَم صَدَقہ کر دیا، اُس کا یہی دِرْہَمْ قبول ہوا اَور اللہ پاک نے اُسے مالا مال کر دیا۔ اِس لئے ہمیں چاہئے کہ آمدنی چاہے کتنی ہی ہو، چاہے 10 روپے ہی کر سکتے ہوں، صَدَقہ ضرور کرتے رہنا چاہئے۔

کنجوس جہنم کے قریب ہے

پیارے اسلامی بھائیو! ہم غریب ہیں یا امیر ہیں، مال و دولت کی کثرت ہے یا قِلَّتْ ہے، بہر حال! اپنے دِل سے کنجوسی ضرور نکال دینی چاہئے کیونکہ کنجوسی بہت بڑا عیب ہے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:

 اَلسَّخِيُّ قَرِیْبٌ مِّنَ اللہِ، قَرِیْبٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ، قَرِیْبٌ مِّنَ النَّاسِ، بَعِیْدٌ مِّنَ النَّارِ، وَالْبَخِیْلُ بَعِیْدٌ مِّنَ اللہِ، بَعِیْدٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ، بَعِیْدٌ مِّنَ النَّاسِ، قَرِیبٌ مِّنَ النَّارِ


 

 



[1]...ضیائے صدقات، صفحہ:170۔