Book Name:Khawaja Huzoor Ki Ibadat
بدنِیَّتی سے توبہ کرلی ہے اور تجھ سے بھی معافی کا طلب گار ہوں۔ جب اُس نیک خاتون نے اپنے شوہر کو یہ پیغام سنایا تو اُس کی زبان سے بے ساختہ (یعنی ایک دم)یہ جاری ہوگیا: صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ فِیْ قَوْلِہٖ (یعنی اللہ پاک نے اپنے اس اِرشاد میں بالکل سچ فرمایا ): ([1])
اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ- (پارہ:21، العنکبوت:45)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک نماز بے حیائی اور بُری بات سے روکتی ہے۔
اے نماز کی برکتوں کے طلب گارو! دیکھاآپ نے؟ نماز کی بَرکت سے ایک عاشقِ مجازی راہِ راست پر آگیا اور اُس کے دل میں مالِکِ حقیقی کا عشق موجیں مارنے لگا اور اُسے سکونِ قلب حاصِل ہوگیا۔ اور واقعی اللہ پاک اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی محبت ہی ایسی ہے کہ جس خوش نصیب کو نصیب ہوجائے وہ پھر کسی اور سے دل لگا ہی نہیں سکتا۔
محبت میں اپنی گما یاالٰہی! نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی
رہوں مست وبے خود میں تیری وِلا میں پلا جام ایسا پلا یا الٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! خواجہ حُضُور کے ذوقِ عِبَادت میں ایک یہ وَصْف بھی شامِل ہے کہ آپ غریبوں کی مدد کثرت سے کیا کرتے تھے، اسی لئے آپ کو غریب نَوَاز بھی کہا جاتا ہے۔
شاید لگا ہو گا کہ کیا یہ بھی عِبَادت ہے...؟ جی ہاں! غریبوں کی مدد کرنا*ان کے کام آنا*بھوکوں کو کھانا کھلانا اَفْضَل تَرِین عِبَادات میں سے ہے اور اللہ پاک کے فضل سے خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ یہ عِبَادت کثرت سے کیا کرتے تھے۔