Book Name:Khawaja Huzoor Ki Ibadat
کرم دیکھ کرڈاکوؤں نے توبہ کر لی...!!
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے؛ حُضُور خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ عِلْمِ دِین سیکھنے کے لئے سَفَر پر نکلے، سَفَر کے لئے ضرورتًا کھانا بھی ساتھ تھا، راستے میں ایک مقام پر آپ کی دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی، وہ حقیقت میں ڈاکو تھے مگر خواجہ حُضُور سے یُوں ملے جیسے بہت دِنوں کے بھوکے اور غریب ہوں، خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنی ضرورت کا سارا کھانا انہیں عطا فرما دیا۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا: جناب...!! آپ کا سَفَر لمبا ہے، سارا کھانا ہمیں عطا فرما دیں گے تو خُود کیا کھائیں گے؟ فرمایا: اللہ پاک میرا مالِک ہے، مجھے کھانا وہی عطا فرمائے گا۔ آپ نے یہ فرمایا اور سارا کھانا ان ڈاکوؤں کو دے کر اپنے رستے چل پڑے، آپ کی یہ کرم نوازی، حُسْنِ اَخْلاق اور تَوَکُّل اُن ڈاکوؤں کو بھا گیا، وہ دوڑ کر آپ کی خِدْمت میں حاضِر ہوئے، ہاتھ جوڑ کر عرض کیا: عالی جاہ! ہم کوئی غریب نہیں بلکہ ڈاکو ہیں، آپ کے تَوَکُّل اور کرم نوازی نے ہمیں سکھایا کہ رِزْق کا مالِک اللہ پاک ہے، لہٰذا حرام ذریعے سے رِزْق کمانا غلط ہے۔ یہ کہہ کر اُن دونوں نے توبہ کی اور نیک رستے کے مُسَافِر بن گئے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہیں ہمارے خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ...!! آپ کیسے سخی تھے، کیسے غریب پَروَر تھے، دوسروں پر رحم کھانے والے، ایثار کرنے والے، اپنی ضرورت پر دوسروں کو ترجیح دینے والے...!! یہی تو سبب ہے کہ آپ نے اپنے بےمثال اَخْلاق، اعلیٰ کردار اور بہت ہی مضبوط ایمان کے ذریعے بَرِّ صغیر میں اسلام کا نُور روشن فرما دیا۔