Book Name:Khawaja Huzoor Ki Ibadat
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی...!! وہ وقت جب بَرِّ صغیر میں کفر عام تھا، خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اس دَور میں بھی 5 وقت کی نماز باجماعت ادا فرماتے تھے، اب ہمارے ہاں تو الحمد للہ!*گلی گلی میں مسجدیں موجود ہیں*امام صاحِب مُقَرَر ہیں*مؤذِّن مُقَرَر ہیں*پانچ وقت کی اذانیں ہو رہی ہیں*خادِمِین موجود ہیں *مسجدوں کی باقاعِدہ صَفَائی ہوتی ہے*قالین بچھے ہیں*بجلی، پنکھے، اے، سی اور ٹھنڈا گرم پانی وغیرہ ساری سہولیات موجود ہیں، اس کے باوُجُود حالت یہ ہے کہ مسجد کے ہمسائے بھی 5وقت مسجد میں نہیں پہنچتے، قریب قریب گھر ہیں، پِھر بھی جماعت سے محرومی ہو جاتی ہے۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ ہر عاقِل و بالغ پر 5وقت کی نماز فرض ہے، فجر کی نماز بھی فرض ہے، ظہر، عصر بھی اور مغرب و عشا بھی، بعض لوگ جو 2 نمازیں پڑھ کر، 4 پڑھ کر دِل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ آج میں نے 4 نمازیں پڑھ لیں، وہ اپنا ذِہن بدلیں، آپ نے 4 پڑھ تو لِیں مگر 1 قضا کر ڈالی۔ پِھر جو نمازیں پڑھتے بھی ہیں تو جماعت کا اہتمام نہیں کرتے۔ یاد رکھئے! پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت پڑھنا واجِب ہے۔ لہٰذا نماز مسجد ہی میں ادا کیا کیجئے! حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک باجماعت نماز پڑھنے والوں کو مَحْبُوب(یعنی پیارا) رکھتا ہے۔([1])
ایک حدیثِ پاک میں ہے: مرد کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ، گھر میں اور بازار میں پڑھنے سے 25 دَرَجے زائد ہے۔([2])ایک اور حدیثِ پاک میں ہے: نماز باجماعت تنہا