Book Name:Ghar Ka Islami Mahol
کریں گے، واقعی ایسا ہے، اس کا اگر تجربہ کرنا چاہتے ہوں تو آپ کے محلے میں آپ کے اِمام صاحِب کے گھر کی کتنی عزّت ہے، اِس پر غور کر لیجئے! عمومًا لوگ اِمام صاحِب کے گھر کو عزّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لوگوں کا ذہن بنا ہوتا ہے کہ اِس گھر میں نیکیاں ہوتی ہیں، بچہ بیمار ہو جائے تو لوگ دَم کروانے کے لئے اِمام صاحِب کے پاس لاتے ہیں، گھر میں پریشانی ہو جائے تو اِمام صاحِب کا رُخ کیا جاتا ہے، اِس کے پیچھے راز کیا ہے؟ امام صاحِب کے گھر میں نمازوں کا ماحول ہوتا ہے،معاشرے میں اُس گھر کی عزّت ہے۔
گھر میں کونسی نمازیں پڑھیں...؟
بخاری شریف کی حدیث ہے، فرمایا:فَاِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ اِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوْبَةَ بیشک آدمی کی بہترین نماز وہ ہے ،جو گھر میں پڑھی جائے مگر فرض نماز ۔([1])
پتا چلا؛ فرض نماز جو ہے، یہ تو ہم (یعنی مردوں) نے مسجد میں باجماعت ہی ادا کرنی ہے، یہ واجب ہے۔ ([2]) اسی طرح محتاط طریقہ یہ ہے کہ سنّت رکعتیں بھی مسجد ہی میں ادا کی جائیں۔باقی جو نوافِل ہیں؛ مثلاً *تہجد *اشراق، چاشت *اَوَّابِین *رات کے نوافِل وغیرہ یہ گھر میں پڑھے جائیں، اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! گھر میں نمازوں کا ماحول بنے گا۔
مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ عنہا سے کسی نے پوچھا: محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا نوافِل سے متعلق کیا معمول تھا؟ فرمایا: