Book Name:Ghar Ka Islami Mahol
میں موجود ہیں، ان سب کا رُخ اگر ہمارے رہائشی علاقوں کی طرف ہو جائے تو سوچئے! زندگی کتنی دُشوار ہو جائے گی، اللہ پاک نے ان سب کو ہمارے گھروں سے دُور رکھا ہوا ہے، یہ کتنا بڑا اِحْسان ہے، کیسی عظیم نعمت ہے۔ اس کا ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم روزانہ ایک بار پُوری تَوَجُّہ کے ساتھ اللہ پاک کا شکر ادا کریں؛ کہیں: اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِيْ كَفَانَا وَآوَانَا سب تعریفیں اللہ پاک کے لئے جس نے ہماری ضروریات پُوری فرمائیں اور ہمیں ٹھکانا عطا فرمایا۔ اللہ پاک ہمیں عَمَل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو! گھر کا ماحَوْل کیسا ہونا چاہئے...؟ یہ بہت اَہَم سُوال ہے، ہمارے گھروں کا ایک سکون تو وہ ہے جو اللہ پاک نے ہمیں بِن مانگے عطا فرما دیا ہے، گھر میں پہنچ کر ہمیں کوئی خوف نہیں رہتا، ہم پُرسکون ہو جاتے ہیں، ایک دوسرا سکون ہے، جو ہم نے خُود اپنی محنت سے حاصِل کرنا ہے، وہ کون سا سکون ہے...؟ گھر کا اچھا ماحول، تمام گھر والوں کی آپس میں محبّت، پیار، اِتّحاد، اِتفاق، بھائی چارہ، اگر گھر میں یہ باتیں نہ ہوں، تب بھی بندے کا سکون تباہ و برباد ہو جاتا ہے، گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے، پریشانیاں، لڑائی جھگڑے، نااِتفاقیاں دِیْمَک کی طرح آدمی کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ ایک معلوماتی بات عرض کروں؛ دُنیا میں فتنے پھیلے ہوئے ہوں، آدمی کو دِین بچانا مشکل ہو رہا ہو، جہالت بڑھ رہی ہو، ایسے فتنوں بھرے ماحول میں ہمیں حفاظت کا جو ذریعہ بتایا گیا ہے، وہ ہمارا گھر ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: سَلَامَةُ الرَّجُلِ فِي الْفِتْنَةِ،أَنْ يَّلْزَمَ بَيْتَهُ فتنوں میں سلامتی کی راہ یہ ہے کہ آدمی