Book Name:Ghar Ka Islami Mahol
خوشیوں میں مَگَن ، دنیا کی اُلجھنوں میں مَصْرُوف رہنا، نہ گھر میں دِینی ماحول، نہ باہَر دِینی ماحَول، نہ گھر میں نیکیوں کی عادَت، نہ باہَر نیک کاموں کی رغبت، بس غفلت ہی غفلت میں پڑے رہ کر دُنیا سے چلے جانا، آخرت کے شدید تَرِین عذاب میں گرفتار کر سکتا ہے۔ یقین مانیئے! ہم 90 فیصد پریشانیوں اور 90 فیصد گُنَاہوں سے بچ سکتے ہیں، اگر گھر میں دِینی ماحَوْل بنا لیں۔ اِس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے گھروں میں دِینی، اِسْلامی ماحَوْل بنائیں۔
ہم نے ابتدا میں پارہ: 11 سورۂ یُونس کی آیت:87 سننے کی سَعَادت حاصِل کی، اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ (پارہ:11، یونس:87)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی۔
یعنی حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السَّلام کی طرف وحی کی گئی، کیا وحی تھی؟
اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا (پارہ:11، یونس:87)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ۔
یہاں سے مَعْلوم ہوا کہ گھر بنانا بھی سُنّتِ انبیا علیہمُ السَّلام ہے ، مگر اِس میں شرط یہ ہے کہ ضرورت کے تحت بنایا جائے، فخر وغرور کے لئے نہ ہو۔ خیر! حضرت موسیٰ و حضرت ہَارُوْن علیہماالسَّلام کو گھر بنانے کا حکم ہوا؛ اِن گھروں کے اندر کا ماحول کیسا رکھنا ہے؟ فرمایا:
وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَؕ- (پارہ:11، یونس:87)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ بناؤ اور نماز قائم رکھو۔