Book Name:Ghar Ka Islami Mahol
اللہ پاک ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے۔ ہم بھی گھروں میں تِلاوت کا ماحول بنائیں۔
(4)گھروں میں ذِکْرُ اللہ کیجئے!
ابوداؤد شریف کی روایت ہے، ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ بنواَشْہَل میں تشریف لے گئے، وہاں نمازِ مغرب باجماعت مسجد میں ادا کی گئی، نماز کے بعد لوگ وہیں بیٹھ کر تسبیح کرنے لگے۔ آپ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوْتِ یعنی یہ تسبیح گھر کی نماز ہے۔ ([1]) یعنی انہیں چاہئے کہ تسبیح وغیرہ گھر جا کر پڑھا کریں۔
پتا چلا؛ گھر میں ذِکْر اَذْکار کا بھی ماحول بنانا چاہئے۔ ایک حدیثِ پاک میں ہے:
مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِيْ يُذْكَرُ اللهُ فِيْهِ وَالْبَيْتِ الَّذِيْ لَا يُذْكَرُ اللهُ فِيْهِ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ
ترجمہ:وہ گھر جس میں اللہ پاک کا ذِکْر ہوتا ہے اور وہ گھر جس میں اللہ پاک کا ذِکْر نہیں ہوتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے۔ ([2])
یعنی جہاں ذِکْر ہوتا ہے، وہ گھر زندہ ہے، جہاں ذِکْر نہیں ہوتا، وہ گھر مُردَہ ہے۔ لہٰذا گھر میں ذِکْرُ اللہ کا بھی ماحول بنانا چاہئے۔ جیسے بھی آسانی ہو، گھر میں کچھ نہ کچھ ذِکْر کی عادَت بنانی چاہئے، ایک صُورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہفتے میں ایک دِن مقرر کر لیا جائے، مثلاً جمعہ کے دِن جمعہ کی نماز کے بعد یا نمازِ عصر تا نمازِ مغرب صِرْف اپنے گھر کے ہی اَفْراد شرعِی پردے