Ghar Ka Islami Mahol

Book Name:Ghar Ka Islami Mahol

تو اسے جھاڑا، اسے بُرا بھلا کہا، کبھی بچوں کو گالیاں، کبھی بچوں کی اَمِّی پر برس رہے ہیں، غرض؛ ہمارے گھر جو فتنوں سے حفاظت کا مضبوط قلعہ تھے، ہم گھر میں رہ کر بہت سارے فتنوں سے خُود کو بچا سکتے تھے، ہم نے ماحَوْل ایسا بنا لیا کہ گھروں کے اندر بھی گُنَاہوں سے حفاظت نہیں رہی۔ یاد رکھئے! یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔

روزِ قیامت ایک مُجْرِم کا حال

قرآنِ کریم میں اِرْشاد ہوا کہ وہ مُجْرِم جسے قیامت کے دِن پیٹھ کے پیچھے سے اُلٹے ہاتھ میں اَعْمال نامہ دیا جائے گا، پیٹھ کے پیچھے سے بھی یُوں نہیں کہ فرشتہ پیچھے کی طرف سے آئے گا اور ہاتھ میں اعمال نامہ تھما دے گا، نہیں...!! نہیں! بلکہ انداز یہ ہو گا کہ سیدھا ہاتھ گردَن کے ساتھ باندھ دیا جائے گا، پِھر اُلٹا ہاتھ پیٹھ کے پیچھے کر دیا جائے گا، اس میں اَعْمال نامہ تھمایا جائے گا، یہ اس دِن موت مانگے گا ،مگر نہ ملے گی، پِھر اسے جہنّم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس شخص کا جُرْم جانتے ہیں کیا ہے؟ ارشاد ہوا:

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۱۳) (پارہ:30،الانشقاق:13)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔

یعنی یہ بندہ دُنیا کے اندر اپنے گھر میں خواہشوں، شہوتوں اور غرور و تکبّر میں مبتلا رہتا تھا، گھریلو خوشیوں میں ایسا مگن تھا کہ آخرت کو بھول ہی چکا تھا، لہٰذا نہ اس نے خُود اچھے عَمَل کئے، نہ گھر والوں کو اس کی ترغیب دِلائی، یونہی گُناہوں میں مَصْرُوف رہ کر موت کے گھاٹ اُتَر گیا۔

اللہُ اکبر!پیارے اسلامی بھائیو! پتا چلا؛ گھروں میں غفلت کا شکار رہنا، بس دُنیوی