Book Name:Mohabbatein Aam Karo
والوں اور میری رِضا کے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لئے میری محبّت واجِب ہو گئی۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ ! معلوم ہوا؛ جو اللہ پاک کی رِضا کے لئے اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، عزیز رشتے داروں، دوستوں وغیرہ سے محبّت کرے، ان سے مِلے، اچھی اچھی باتیں کرے، ایسا خوش نصیب اللہ پاک کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔
والدین، بہن بھائی، عزیز رِشتے دار یا مُتَعلّقِین وغیرہ دُور رہتے ہوں تو مُناسب وقفے سے انہیں ملنے جانا بھی سَعَادت ہے، ہاں! مُلاقات صرف و صِرْف اللہ پاک کی رَضا کے لئے کرنی چاہئے،اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! برکتیں ملیں گی۔ اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: بےشک جنّت میں یاقُوت کے مینار ہیں، جن پر زَبَرْجَد (ایک قیمتی پتھر) سے بنے ہوئے کمرے ہیں جو ستاروں کی طرح چمکتے ہیں، پوچھا گیا: ان میں کون رہے گا؟ فرمایا: اللہ پاک کی رِضا کے لئے آپس میں محبّت رکھنے والے، اللہ پاک کی رِضا کے لئے آپس میں مُلاقات کرنے والے اور اللہ پاک کی رِضا کے لئے ایک دُوسرے پر خرچ کرنے والے۔ ([2])
اللہ پاک تم سے محبّت فرماتا ہے
حدیثِ پاک میں ہے: ایک شخص دُوسرے گاؤں میں رہنے والے اپنے دِینی بھائی سے