Book Name:Mohabbatein Aam Karo
مِل کر رہنے کی برکت سے خُود مالِکِ جنّت، قاسِمِ نعمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قرب نصیب ہو جاتا ہے۔
فضلِ ربِ العُلٰی اور کیا چائیے مِل گئے مصطفےٰ اور کیا چائیے
دامنِ مُصطفےٰ جس کے ہاتھوں میں ہو اس کو روزِ جزا اور کیا چائیے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ ہم مِل جُل کر رہا کریں، آج کل یہ بھی ایک مسئلہ ہے، مکان پکّے ہوتے جا رہے ہیں، تعلّقات کچے ہو رہے ہیں، دِلوں میں دُوریاں آتی جا رہی ہیں، بعض دفعہ ایک ہی گھر میں رہنے والوں کو آپس میں مُلاقات کا موقع نہیں ملتا، کتنے کتنے دِن گزر جاتے ہیں، مِل بیٹھنا تو دُور کی بات، فون پر بات نہیں ہو پاتی۔ عِیْد کا دِن تو خصوصیت کے ساتھ مِل جُل کر خوشیاں بانٹنے کا دِن ہے، اس کے عِلاوہ بھی چاہئے کہ روزانہ کم از کم ایک وقت کا کھانا ایک ساتھ کھائیں٭ سب گھر والے مِل کر بیٹھیں٭ آپس میں اچھی اچھی باتیں کریں٭ ایک دوسرے کا حال اَحْوال معلوم کریں، اس سے محبتیں بڑھیں گی٭ یونہی ہمارے قریب قریب کے جو رشتے دار ہیں، خالہ، ماموں، چچا، تایا، زیادہ نہیں تو ہفتے میں ایک آدھ بار، مہینے میں ایک آدھ بار ان کے ساتھ بھی ملنے، بیٹھنے کی روٹین رکھنی چاہئے۔ ہمارے ہاں جو جُدائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، کتنا کتنا عرصہ ہو جاتا ہے، آپس میں ملتے ہی نہیں ہیں، اس کی وجہ سے بھی دِلوں میں دُوریاں بڑھ رہی ہیں۔ صحابئ رسول حضرت ثَعْلبہ خُشَنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: لوگوں کی عادت تھی کہ دورانِ سَفَر کسی گھاٹی یا