Book Name:Mohabbatein Aam Karo
یہ صِرْف و صِرْف اللہ پاک کا اِنْعَام ہے کہ اللہ پاک دِلوں میں محبتیں پیدا فرما دیتا ہے۔
مشہور مفسرِ قُرآن، حکیم الاُمّت مُفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں: عرب کی آپس میں عداوتوں اور سختیِ دِل کا یہ حال تھا کہ وہ قبیلوں اور خاندانوں میں تقسیم تھے، اگر ایک قبیلے کا آدمی دوسرے قبیلے کے بچے کو تھپڑ مار دیتا تو دونوں قبیلے تِیْر اور تلوارَیں لے کر مُقابلے میں آجاتے اور بہت خُون رَیْز جنگ ہوتی، جو صدیوں تک باقی رہتی۔ مدینہ کے اَنصار (یعنی) اَوْس اور خَزْرَج میں 120 سال سخت جنگ رہی، ان کے ملنے کی کوئی اُمِّید ہی نہ تھی۔ دُرود ہوں، اُس ذاتِ کریم (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پر جس نے ان سب کو ایک کر دیا، اور ایسا ایک کیا کہ وہ لوگ چند جسم اور ایک دِل بلکہ ایک جان بن گئے۔
بدخُلْق جو تھے وہ نیک ہوئے، لڑتے تھے ہمیشہ وہ ایک ہوئے
جھگڑے تُو نے آکر مَیْٹ دئیے، تیری فَہْم و ذکا کا کیا کہنا!
آیتِ کریمہ میں حُضُورِ اَنْور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اِسی معجزہ کا ذِکْر ہے کہ اے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! تمام اَہْلِ عرب کی دُشمنیاں اس حد تک پہنچ چکی تھیں کہ اگر آپ سارے ظاہری اَسباب، دُنیا کی ساری دَولتیں خرچ کرکے انہیں مِلانا چاہتے تو یہ نہ ملتے۔ یہ تو ہماری رحمت، آپ کا معجزہ ہوا کہ چند روز میں یہ سب مِل کر شِیْر و شَکّر (یعنی پکّے دوست بلکہ بھائی بھائی) ہو گئے۔ ([1])