Mohabbatein Aam Karo

Book Name:Mohabbatein Aam Karo

اللہ ! اللہ !  اَثَر دیکھئے! اِدھر مسجد میں صَف بناتے ہوئے بےاحتیاطی کی، صف ٹیڑھی بنائی، آپس میں مِل کر کھڑے نہ ہوئے، کندھے سے کندھا نہ مِلایا، اس کا اَثَر صِرْف نماز پر نہیں پڑے گا، اس کا اَثَر پُورے مُعاشرے پر پڑے گا، آپس کی محبّت مِٹ جائے گی، دِل دُور دُور ہو جائیں گے اور معاشرے میں بےاَمنی اور بےسکونی کا ٹھکانا ہو جائے گا۔

پتا چلا؛ مسجد میں باجماعت نماز پڑھتے ہوئے صفیں احتیاط کے ساتھ سیدھی کرنی چاہئیں، آپس میں مِل کر کندھے سےکندھا ملا کر کھڑے ہوں، اِنْ شَآءَ  اللہ  الْکَرِیْم! پیار و محبّت میں اضافہ ہو گا۔

فرشتوں جیسی صف بناؤ...!!

حضرت جابِر بن سَمُرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: ایک دِن پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ   صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تشریف لائے اور فرمایا: تم ایسے صَفّ کیوں نہیں بناتے، جیسے فرشتے بناتے ہیں۔ ہم نے عَرْض کیا: یَا رسولَ  اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !فرشتے کیسے صَفّ بناتے ہیں؟ فرمایا: پہلے اگلی  صَفّ مکمل کرتے ہیں اور خوب مِل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ([1])

معلوم ہوا؛ فرشتوں کے وہ کام جو ہم بھی کر سکتے ہیں، ان کاموں میں فرشتوں کی مشابہت(Similarity) اختیار کرنا شریعت کو پسند ہے۔

نماز نہ پڑھنے کا وبال

پیارے اسلامی بھائیو! یہاں ایک اور بات پر غور فرمائیے! بندہ مسجد میں آئے، باجماعت نماز بھی پڑھے، پِھر اس نماز میں صَفْ سیدھی نہ کرے، مل کر کھڑا نہ ہو، اس کا یہ


 

 



[1]...تفسیر بغوی، پارہ:23 ،سورۂ صافات،زیرِ آیت:1،جلد:3 ،صفحہ:653۔