Book Name:Mohabbatein Aam Karo
وادی میں ٹھہرتے تو پھیل جاتے (یعنی الگ الگ ہو کر بیٹھ جاتے) ، اس پر اللہ پاک کے پیارے رسول، رسولِ مَقْبول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: بے شک تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں الگ الگ ٹھہرنا شیطان کی طرف سے ہے، اس کے بعد لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو ایک جگہ مِل کر رہتے۔ ([1])
پتا چلا؛ مسلمانوں کو آپس میں دُور دُور رہنا، یہ بھی شیطان کے اَثَر سے ہے۔ جب جسمانی طور پر دُوریاں بڑھ جاتی ہیں تو آہستہ آہستہ دِلوں میں بھی دُوریاں آ جاتی ہیں، یُوں آپس میں پیار محبّت، بھائی چارہ وغیرہ دَم توڑ جاتا ہے۔
اِسلامی بھائی چارے اور اُلفت کے فضائل
پیارے اسلامی بھائیو! مسلمان سب آپس میں بھائی بھائی ہیں، سب مسلمان مِل جُل کر، پیار محبّت کے ساتھ، اُلفت و بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزاریں، اللہ و رسول کو یہ عَمَل بہت پسند ہے۔ اللہ پاک کے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےفرمایا: روزِ قیامت اللہ پاک فرمائے گا: میرے جلال کے سبب آپس میں محبّت رکھنے والے کہاں ہیں؟ آج (یعنی روزِ قیامت) جبکہ میرے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہیں، میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرماؤں گا۔ ([2])
حضرت مُعَاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ رَحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ پاک فرماتا ہے: میری رِضا کے لئے باہَم محبّت رکھنے والوں، میری رِضا کے لئے مل بیٹھنے والوں، میری رِضا کے لئے ایک دوسرے سے مُلاقات کرنے