Mohabbatein Aam Karo

Book Name:Mohabbatein Aam Karo

حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑنے کی فضیلت

حضرتِ ابو اُمَامَہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  اللہ  پاک کے آخری نبی  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان ہے:جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ختم کرے میں اس کے لئےجنت کے کنارے ایک گھر کی ضمانت دیتا ہو ں۔([1])

سُبْحٰنَ اللہ ! دیکھئے! صُلح میں کیسی بھلائی ہے...!! اس کی برکت سے بندہ جنّت کا حقدار ہو جاتا ہے۔  اور صُلح نہ کرنا، رشتے توڑنا، قطعِ رحمی کرنا...!! اس سے کیا ملتا ہے؟ کیا نحوست اُترتی ہے، سنیئے!

ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صُلح کرلی

حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ صحابئ رسول ہیں۔ آپ لوگوں کو دَرْس دیا کرتے تھے، ایک دِن آپ لوگوں کو حدیثیں سُنا رہے تھے، اس دوران فرمایا: ہر قاطِعِ رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہماری محفل سے اُٹھ جائے۔ یہ اعلان سُن کر ایک نوجوان اُٹھا  اور اپنی پھوپھی جس کے ساتھ اس کا کئی سال پُرانا جھگڑا چل رہا تھا، اس کے ہاں چلا گیا، جاکرمعافی تلافی کی، پھوپھی کو راضی کر لیا۔ جب دونوں آپس میں راضی ہو گئے تو پھوپھی نے کہا:  بیٹا! تم جا کر حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سبب پوچھو کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ (یعنی حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے اِعْلان کی) حکمت کیا ہے؟ نوجوان نے حاضِر ہو کر حکمت پوچھی تو حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: میں نے حُضُور انور  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے سنا ہے: جس قوم میں قاطِعِ رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو، اس قوم پر  اللہ  پاک کی رحمت نہیں اُترتی۔([2])


 

 



[1]...ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق، صفحہ:755، حدیث:4800۔

[2]...الزواجر، جلد:2، صفحہ:136-137 ۔