Waldain Ke Huqooq

Book Name:Waldain Ke Huqooq

یعنی ماں باپ جب   اللہ  و رسول کی نافرمانی کا حکم دیں تو اُن کی پیروی نہ کرو! یہاں ایک نصیحت اور ہے، جو قرآنِ کریم نے کی، فرمایا:

وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘   (پارہ:21، لقمان:15)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان  : اور دنیا میں اچھی طرح اُن کا ساتھ دے۔

پتا چلا؛ ماں باپ نے شریعت کے خِلاف حکم دے دیا تو ٭اب اُن سے لڑنا نہیں ہے ٭ان کے سامنے چیخنا چلانا نہیں ہے ٭ان کے ساتھ بات چیت ختم نہیں کرنا ٭ان سے روٹھ کر گھر سے بھاگنا نہیں ہے ٭کھانے پینے کی ہڑتال کر کے ان کا دِل نہیں دکھانا بلکہ اس صُورت میں بھی اُن کے ساتھ بھلائی سے ہی پیش آنا ہے، مثلاً اَمّی جان کہتی ہیں: بیٹا! داڑھی منڈا دو! اب بیٹے نے اَدَب سے کہنا ہے: امی جان! آپ کا حکم سَر آنکھوں پر مگر میں داڑھی نہیں منڈا سکتا، اس میں   اللہ  و رسول کی ناراضی ہے۔

٭اب اس پر ماں باپ ڈانٹیں تو چُپ کر کے ڈانٹ سُن لے ٭ماریں تو چُپ چاپ مار کھا لے ٭بَول چال بند کریں تو وقفے وقفے سے، حکمتِ عملی کے ساتھ، چچا، تایا، ماموں وغیرہ کی حمایت لے کر اُنہیں منانے کی کوشش کرے، بےادبی بہر حال نہیں کرنی، ہر حال میں ان کے ساتھ بھلائی بھلائی اور بھلائی ہی سے پیش آنا ہے۔

(2):نفل عِبَادت سے زیادہ اہمیت دینا

والدین کا دوسرا حق ہے: ماں باپ کے حکم کو نفل عِبَادت سے زیادہ اہمیت دینا۔([1])

مثلاً ٭دِل کر رہا تھا کہ کل نفل روزہ رکھوں گا، ماں باپ نے منع کر دیا تو اِن کی بات


 

 



[1]... برالوالدین لابن جوزی، کیفیۃ بر الوالدین، صفحہ:137۔