Book Name:Waldain Ke Huqooq
یعنی والدین کی ہر بات ماننی ہے، جو وہ کہہ دیں، فورًا لبیک کہتے ہوئے اُن کے حکم پر عمل کر گزرنا ہے۔ ایسے بہت سارے کام ہیں کہ عام حالات میں جائِز کی حد تک ہیں مگر والدین کاحکم آجائے تو واجِب ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ٭کھانا حلال ہے، مباح ہے، بندہ نہ کھائے تو بھی گُنَاہ نہیں، اگر ماں باپ کھانے کا حکم فرمائیں، اب کھانا واجِب ہو جائے گا، نہ کھایا تو گُناہ ہو گا([1]) ٭اسی طرح بہارِ شریعت میں ہے: یہ (یعنی بیٹا) پردیس(Abroad) میں ہے،والِدَین اِسے بُلاتے ہیں تو آنا ہی ہوگا، خط لکھنا کافی نہیں ہے۔ یُوہیں والِدَین کو اِس کی خدمت کی حاجَت ہو تو آئے اور ان کی خدمت کرے۔([2])
یعنی دِین میں ماں باپ کا حکم ماننے کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ اگر بیٹا پردیس میں بیٹھا ہے، ماں باپ نے آنے کا حکم دے دیا، اب ضروری ہے، آنا ہی پڑے گا۔
شریعت کی مانیں یا والدین کی...؟
ہاں! شریعت کا حکم اور والدین کا حکم آمنے سامنے آجائیں، یعنی ایک دوسرے کے اُلٹ ہوں ، اس صُورت میں شریعت کی بات مانی جائے گی، ماں باپ کی نہیں مانی جائے گی، مثلاً والدین کہتے ہیں: ٭داڑھی مُنْڈا دو، یہ حکم شریعت کے خِلاف ہے، لہٰذا نہیں مانا جائے گا ٭یونہی اللہ نہ کرے والدین نماز سے منع کریں، فرض روزے رکھنے سے روکیں تو ایسی صُورت میں ماں باپ کی نہیں بلکہ شریعت کی بات مانی جائے گی۔ قرآنِ کریم میں ہے:
فَلَا تُطِعْهُمَا (پارہ:21، لقمان:15)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان : تو ان کا کہنا نہ مان۔