Book Name:Waldain Ke Huqooq
کے لئے جو یہ مشقت اُٹھاتے ہیں، احسان پر احسان کرتے چلے جاتے ہیں، اس میں اُنہیں بھی کوئی لالچ نہیں ہوتا، بس ہمارے جگر کا ٹکڑا ہے یہ کہہ کر سب کچھ قربان کرتے چلے جاتے ہیں ، انہیں بدلے کی بھی اُمِّید نہیں ہوتی، بعض دفعہ اَوْلاد کے دِل میں آ رہا ہوتا ہے کہ ہم بڑے ہو جائیں گے تو ہماری کمائی کھانے اور بڑھاپے کا سہارا بنانے کی اُمّید پر ماں باپ ہمیں پالتے ہیں۔ یہ غلط سوچ ہے۔ ایسا نہیں ہوتا، بچّہ واقعی جوان ہو جائے گا؟ یہ کس کو خبر ہے؟ پِھر جوان ہو گیا تو کما کر ماں باپ ہی کو دے گا، یہ گارنٹی کس کے پاس ہے؟ عمومی حالات یہی ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر اپنے گھر کا ہو جاتا ہے۔ پِھر کتنے بچّے اپاہج ہوتے ہیں، ہاتھ، پیر سے معذور ہوتے ہیں، ماں باپ انہیں بھی پال رہے ہوتے ہیں، حالانکہ خبر ہوتی ہے کہ یہ بڑا ہو کر بھی ہمارے کسی کام نہیں آئے گا۔ پتا چلا؛ ماں باپ کے احسانات بھی بغیر لالچ کے ہوتے ہیں، لہٰذا اللہ پاک کی عبادت کے ساتھ اِن کے حقوق کاذِکْر فرمایا گیا۔
اللہ پاک اور ماں باپ کے احسانات میں ایک اور بڑی پیاری مشابہت ہے وہ یہ کہ بندہ چاہے نافرمان ہو، اللہ پاک اس پر بھی انعامات فرماتا ہے، یہی حال ماں باپ کا بھی ہے، ٭بیٹا چاہے بَدچلن ہو ٭نافرمان ٭بےادب گُسْتاخ ہو، ماں باپ کی آنکھوں کا پِھر بھی تارا ہوتا ہے، ماں باپ اس پر بھی احسانات کرتے ہی رہتے ہیں۔
غرض؛ یہ کئی وُجُوہات ہیں جن کی بنا پر قرآنِ کریم میں اللہ پاک کی عبادت کے ساتھ والدین کے حقوق کا بھی ذِکْر کیا گیا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اللہ و رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حقوق کے بعد سب سے اَہَم اور سب سے اَوَّلِین حق ماں باپ کا ہے۔
ایک مرتبہ ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں سُوال کیا: یا رسولَ اللہ ِ صَلَّی