Book Name:Waldain Ke Huqooq
مانی جائے گی ٭دِل چاہ رہا تھا کہ ابھی نوافِل پڑھوں گا، امی جان نے کہیں جانے، مثلاً بازار سے سَوْدا وغیرہ لانے کا فرما دیا، اب نفل بعد میں پڑھ لیں، پہلے ان کا حکم ماننا ہے۔
حدیثِ پاک میں ہے: حضرت جُرَیج راہِب رحمۃُ اللہ علیہ پچھلی اُمّتوں میں ایک نیک عبادت گزار بزرگ تھے، ایک مرتبہ نوافِل پڑھ رہے تھے کہ امّی جان نے آواز دی، یہ سوچ میں پڑ گئے، ایک طرف اللہ پاک کی عِبَادت ہے، دوسری طرف ماں کا فرمان، کیا کروں؟ ذہن اس طرف جما کہ اللہ پاک کی عِبَادت جاری رکھتا ہوں۔ ماں نے دوسری آواز دی، انہوں نےپِھر کوئی جواب نہ دیا، تیسری آواز دی، پِھر کوئی جواب نہ دیا، اب ماں کو تو معلوم نہیں تھا کہ آپ نماز میں ہیں، چنانچہ غصّے میں کہا: اللہ پاک تجھے موت نہ دے، جب تک کسی بدکار کا منہ نہ دیکھ لے۔
بالآخر جُرَیج ایک دن نمازپڑھ رہے تھے کہ ایک عورت نے کہا: میں جُرَیج کوفتنے میں مبتلا کر دوں گی۔ چنانچہ، وہ اُس کے سامنے آئی اور اسے بدکاری کی دعوت دی مگر اس نے انکار کر دیا۔ وہ عورت چرواہے کے پاس گئی جو جُرَیج کے عبادت خانے میں ہی رہتا تھا اور(بدکاری کے لئے) اُسے اپنے آپ پر قدرت دے دی۔ جس سے حاملہ ہو کر ایک بچے کو جنم دیا اور کہنے لگی کہ یہ جُرَیج کا ہے۔لوگ جُرَیج کے پاس آئے اور اسے باہر نکال کر عبادت گاہ کو توڑ دیا اور بہت بُرا بھلا بھی کہا۔ جُرَیج نے کہا : تم یہ ہنگامہ کیوں کر رہے ہو؟ لوگوں نے کہا :تم نے اس بدچلن عورت کے ساتھ بدکاری کی اور ا س نے تیرا بچہ جنا ہے ۔ جُریج نے کہا : وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ بچے کو لے کر آئے تو جُریج نے کہا : مجھے کچھ وقت دو