Waldain Ke Huqooq

Book Name:Waldain Ke Huqooq

تاکہ میں نماز پڑھ لوں۔ اِس پر جُرَیج نے وضو کیا اور نماز پڑھی پھر اُس بچے کے پاس آیا اور (بچے کے پیٹ میں اُنگلی مارکر) اس سے کہا: اے بچے! تیراباپ کون ہے؟ تو(چنددن کا) بچہ بَول اُٹھا کہ: فُلاں چرواہا۔ لوگوں نے (شرمندہ ہوکر) جُرَیج سے کہا: ہم تمہارے لئے سونے کی عبادت گاہ بنا دیتے ہیں۔ مگر اس نے کہا: نہیں ! ویسی ہی مٹی کی بنا دو۔([1])

والدین کی آواز پر کب نماز توڑ سکتے ہیں؟

پتا چلا؛ ایک طرف نفل عِبَادت ہو، دوسری طرف ماں باپ کا فرمان ہو تو زیادہ اہمیت ماں باپ کے ارشاد کی ہے۔ لیکن یہ کام بہت مشکل ہے، کب ماں باپ کی بات ماننی ہے، کب شریعت کے حکم کو اہمیت دینی ہے؟ اس کی تفصیلات ہیں، اس کے متعلق کافی سارا عِلْم ہو گا، تبھی عَمَل کر سکیں گے۔ مثلاً نماز والا ہی مسئلہ ہے ٭اگر والدین کسی بڑی مصیبت میں ہیں، مثلاً اَمِّی جان سیڑھی سے گِر گئیں، گھر میں کوئی اَور نہیں ہے، اب تو چاہے فرض نماز پڑھ رہے ہوں، توڑ کر ماں کی خِدْمت میں لگ جانا ضروری ہے ٭اگر ایسی ایمرجنسی کی صُورت نہیں ہے، اب ماں کی پُکار پر فرض نماز نہیں توڑ سکتے ٭ہاں! نفل پڑھ رہے ہیں، امی اَبُّو کو معلوم نہیں ہے کہ بیٹا نفل پڑھ رہا ہے، ایسی حالت میں وہ آواز دیں تو نفل نماز توڑ کر اُن کی خِدْمت میں حاضِر ہوجانا ہے ٭اگر انہیں معلوم ہے کہ بیٹا نفل پڑھ رہا ہے، اب نفل توڑنے کی بھی حاجت نہیں۔([2])  

غرض؛ یہ لمبی چوڑی تفصیلات ہیں، یہ ہمیں سیکھ لینی چاہئیں، اگر دار الافتاء اہلسنت کی


 

 



[1]... بخاری، کتاب المظالم  والغضب، باب اذہدم حائطا فلیبن مثلہ، صفحہ:639، حدیث:2482۔

[2]...بہار شریعت، جلد:1، حصہ:3، صفحہ:638۔