Book Name:Waldain Ke Huqooq
وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا (پارہ:1، البقرۃ:83)
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سِوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے پارہ:1، سُورۂ بقرہ کی آیت نمبر:83 کا کچھ حصّہ سُننے کی نے سَعادت حاصِل کی، اِس آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل کی ذِلّت و رُسوائی کا ایک سبب بیان کیا گیا ہے ، آیت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو کچھ باتوں کا حکم دیا گیا تھا مگر اُنہوں نے اس پر عَمَل نہ کیا اور نافرمان ہو کر ذِلّت کا شکار ہو گئے۔
ویسے آیتِ کریمہ طویل ہے، اس میں کل 8 باتوں کا ذِکْر ہے، جن کا بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا، آج ہم ان 8 میں سے صِرْف پہلی 2باتوں کا ذِکْر سُنیں گے اور کوشش کریں گے کہ بنی اسرائیل جن باتوں پر عمل نہ کر کے رُسْوا ہوئے، ہم ان پر عَمَل کر کے عُرُوج اور ترقی کے حقدار بن جائیں۔ آئیے! آیتِ کریمہ اور اس کی وضاحت سنتے ہیں:
اللہ پاک نے ارشادفرمایا:
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ (پارہ:1، البقرۃ:83)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔