Book Name:Waldain Ke Huqooq
مثلاً اُن کے کھانے پینے کا بہترین انتظام کرنا ٭جوتے، کپڑے وغیرہ خرید کر دیتے رہنا ٭حسبِ استطاعت پھل وغیرہ پیش کرنا ٭بیمار ہوں تو اچھے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا، دوائیں وغیرہ مہیا کرنا ٭حَسْبِ توفیق اُنہیں جیب خرچ کے طور پر رقم پیش کرنا کہ یہ جہاں چاہیں خرچ فرمائیں۔ غرض؛ جتنا ہو سکے ان پر اپنا مال خرچ کرنا، ان کے حقوق میں شامِل ہے۔ روایات میں ہے: ایک شخص اپنے والِد کو خرچ پیش نہیں کرتاتھا، اس کے والِد نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا۔ اس پر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارَک آنکھوں میں آنسو آئے اور جلال کی کیفیت میں اس شخص سے فرمایا: اَنْتَ وَ مَالُکَ لِاَبِیْکَ تم خود اور تمہارا سارا مال تمہارے والِد ہی کا ہے۔([1])
یقیناً ہم دُنیا میں آئے ہی اِن کے ذریعے سے ہیں، آج جو کچھ ہیں، ماں باپ کی محنت کا ہی نتیجہ ہے، لہٰذا ہمارا جو کچھ ہے، اِس پر اِن کا حق ہے، لہٰذا چاہئے کہ جتنا ہو سکے، اِن پر خرچ کیا کریں۔
حضرت موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السَّلام ایک بار اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے ۔ یاربِّ کریم!مجھے میرا جنّت کا ساتھی دکھا دے۔ اللہ پاک نے فرمایا: فُلاں شہر میں جاؤ، وَہاں فُلاں قَصّاب تمہارا جنّت کا ساتھی ہے۔ چنانچِہ موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السَّلام وہاں اُس قصّاب کے پاس تشریف لے گئے، (واقفیت نہ ہونے کے باوُجُود مسافِر اور مہمان ہونے کے ناطے) اُس نے آپ علیہ السَّلام کی دعوت کی۔ جب کھانا کھانے بیٹھے تو اُس نے ایک بڑا سا ٹوکرا اپنے پاس