Book Name:Waldain Ke Huqooq
کرنے والے بن جائیں، اگر والدین کے خدمت گزار ، ان کا دِل خوش کرنے والے بن گئے تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! دُنیا میں بھی کامیابی نصیب ہو گی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔
(4):والدین کی خواہشات کو پُورا کرنا بھی اُن کے حقوق میں سے ہے۔ مثلاً ٭ان کے پسندیدہ کھانے اُنہیں کِھلانا ٭پسند کی چیزیں لا کر دینا ٭والِدَین حج کرنا چاہتے ہیں، بیٹے کی استطاعت ہو تو اُنہیں حج کروا دے ٭والدین مدینہ دیکھنا چاہتے ہیں، بیٹا کوشش کر کے مدینہ دِکھائے، یُوں جہاں تک ہو سکے، ماں باپ کی جائِز خواہشات پُوری کی جائیں، یہ بھی حقوق میں ہے۔
اسی طرح ماں باپ کے مزید حقوق یہ ہیں: (5):ان کی خِدْمت میں مُبالغہ کرنا، یعنی ٭خُوب خِدْمت کرنا ٭اِن کے پاؤں دَبانا ٭ان کی ضروریات بھاگ بھاگ کر پُوری کرنا ٭ان کے غم میں غمگین اور خوشی میں خوش ہونا (6):ان کے سامنے سہم کر رہنا کہ کہیں کوئی بےادبی نہ ہو جائے (7):ان کے سامنے آواز اُونچی نہ کرنا (8):انہیں تیز نظروں سے نہ دیکھنا (9):ان کے آگے نہ چلنا (10):انہیں نام سے نہ پُکارنا (11):اور ان کی طرف سے جو کچھ دُکھ یا تکلیف پہنچے، اس پر صبر، صبر اور بَس صبر ہی کرتے چلے جانا۔ یہ سب ماں باپ کے حقوق ہیں۔ اللہ پاک ہمیں ماں باپ کے حقوق ادا کرنے اور ساری زندگی ان کا شکر گزار ہی رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد