Book Name:Waldain Ke Huqooq
ایپلی کیشن اپنے موبائل میں رکھ لیں، وقتًا فوقتًا اس میں دئیے ہوئے فتوے پڑھتے رہیں، ساتھ ہی جب جب ذِہن میں سُوالات ابھریں، دارُ الْاِفتاء اہلسنت کے مفتیانِ کرام سے پوچھتے رہیں، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! عِلْمِ دین کا بہت ساراذخیرہ جمع ہو جائے گا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
والدین کی پُکار پر تاخیر نہ کیجئے!
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت جریج رحمۃُ اللہ علیہ کے واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ والدین پُکاریں تو جواب دینے میں ہر گز تاخِیر نہیں کرنی چاہئے، بعض لوگ اِس میں سخت لاپروائی سے کام لیتے ہیں، ماں آوازیں دے رہی ہے، یہ اپنے کام میں مگن ہیں یا موبائل میں کھوئے ہوئے ہیں، ماں کی پُکار کا جواب ہی نہیں دے رہے، بعض لوگ پہلی ایک 2پُکاریں تو سُنی ان سُنی کر دیتے ہیں، جب ماں بیچاری خُوب چِلّا کر پُکارتی ہے، تب جواب دیتے ہیں، یہ سخت بےادبی والی بات ہے، جو لوگ والِدَین کی پکار پر خوامخواہ بے تَوَجُّہی (No Lift)کا مُظاہَرہ کر کے اُن کا دِل دُکھاتے ہیں وہ سخت گنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہیں ۔ ماں آخِر ماں ہوتی ہے، بسا اوقات غَلَط فہمی میں بھی اُس کے منہ سے بد دعا نکل جائے اور اگر قَبولیَّت کی گھڑی ہو تو اَوْلاد آزمائش میں پڑ جاتی ہے۔منقول ہے : ایک شخص کو اُس کی ماں نے آواز دی لیکن اُس نے جواب نہ دیااِس پر اُس کی ماں نے اسے بددُعا دی تو وہ گونگا ہو گیا۔([1])
(3):والِدَین پر خرچ کرنا
ماں باپ کا تیسرا حق ہے: اُن پر خُوب خرچ کرنا۔