Waldain Ke Huqooq

Book Name:Waldain Ke Huqooq

ماں باپ کے حقوق کتنے ہیں...؟

پیارے اسلامی بھائیو! ماں باپ کے ساتھ حُسْنِ سلوک کرنا چاہئے، ان کے حقوق ادا کرنے چاہئیں، یہ تو ہم عموماً سُنتے رہتے ہیں٭ان کے حُقوق ہیں کیا؟ ٭کتنے ہیں؟ ٭کون کون سے ہیں؟ ٭ہم نے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کیسے کرنا ہے؟ اس تعلق سے چند باتیں عرض کرتا ہوں؛

سب سے پہلے تو یہ ذِہن میں بٹھا لیجئے کہ والِدَین کے حقوق کی گنتی نہیں ہو سکتی، ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ   اللہ  علیہ کی خِدْمت میں سُوال ہوا: ماں باپ کے حقوق کتنے ہیں؟ (شاید سائِل چاہتا ہو گا کہ مجھے حقوق گِن کر بتا دئیے جائیں تاکہ میں اُنہیں پورا کر سکوں) ۔ سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃُ   اللہ  علیہ نے کمال جواب دیا، فرمایا: والدین کے حُقوق اتنے ہیں کہ پُورے کرنا ناممکن ہے، یہاں تک کہ اگر والدین وفات پا جائیں، اگر بیٹا اُنہیں دوبارہ زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو دوبارہ زندہ کرے، یہ بھی اُن کے حقوق میں شامِل ہے۔([1])

والِدَین کے چند حُقوق

حقیقت تو یہی ہے کہ والدین کے حقوق کسی صُورت ادا نہیں ہو سکتے، بہر حال! عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: چند باتیں ہیں، بندہ ان پر عَمَل کر لے تو والدین کے ساتھ بھلائی کرنے والا کہلائے گا: ([2])

 (1):اطاعت و فرمانبرداری

پہلا حق ہے: شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے والدین کی ہر بات ماننا ۔


 

 



[1]...فتاوٰی رضویہ، جلد:14، صفحہ:370 خلاصۃً۔

[2]...برالوالدین لابن جوزی، ذکر المعقول فی بر الوالدین...الخ، صفحہ:129 خلاصۃً۔