Waldain Ke Huqooq

Book Name:Waldain Ke Huqooq

21 وَیں پارے میں فرمایا:

اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ     (پارہ:21، لقمان:14)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: کہ میرا اَور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔

اسی طرح اور بھی کئی مقامات پر ایسا ہی ہے کہ   اللہ  پاک کی عبادت کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ بھلائی کا بھی حکم دیا جاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

ماں باپ کے احسانات

حکیمُ الاُمّت، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ   اللہ  علیہ فرماتے ہیں: اس کی 2 وجہیں ہیں: (1):ماں باپ فیضِ اِلٰہی کا پہلا واسطہ ہیں، یعنی   اللہ  پاک کی جتنی بھی نعمتیں بندے کو حاصِل ہوئیں، وہ سب کی سب پیدائش کے بعد ہی حاصِل ہوتی ہیں اور بندے کی پیدائش والدین کے ذریعے سے ہوئی، گویا ہر طرح کی نعمت، ہر طرح کافیض ملنے کا پہلا واسطہ ہمارے والدین ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو ہم بھی نہ ہوتے، ہم نہ ہوتے تو یہ دُنیا، یہاں کی تمام کی تمام نعمتیں ہمارے لئے بالکل بےمعنیٰ تھیں ٭ہم ہیں ٭ہماری سانسیں ہیں ٭خوبصورت چہرہ ٭بہترین لباس ٭مضبوط جسم ٭مال و دولت ٭عزّت و عظمت وغیرہ یہ سب کچھ ہمیں مِلا، اس کا پہلا واسطہ ہمارے والِدین ہیں، وہ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا۔ چونکہ یہ والدین فیضِ اِلٰہی کا پہلا واسطہ ہیں، لہٰذا   اللہ  پاک کی عبادت کے ساتھ ہی ان کے حقوق کا بھی ذِکْر کیا گیا۔

(2):مفتی صاحِب مزید فرماتے ہیں: ماں باپ کے ہم پر جو احسانات ہیں، جو انعامات ہیں، اُن میں   اللہ  پاک کے احسانات و انعامات کی کچھ مشابہت ہے۔ مثال کے طور پر؛ ٭  اللہ  پاک اپنے بندوں کو پالتا ہے ٭نعمتیں عطا فرماتا ہے ٭بارش برستی ہے ٭پھل پھول