Pyary Aaqa K Pyary Naam

Book Name:Pyary Aaqa K Pyary Naam

ہے کہ جس رات کی صبح کو عالَم کا رنگ بدلا،  سوتے نصیب جاگ گئے، قسمت چمک گئی *آج مددگار آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی آمد کی رات ہے *آج دُکھی انسانیت کے غمخوار آقا کی آمد کی رات ہے *آج ان کی آمد کی رات ہے، جو انسانیت   کو نفس و شیطان کی قید سے چھڑانے کے لئے تشریف لائے *آج ان کی آمد کی رات ہے جو کرم کے دریا بہانے کے لئے تشریف لائے *آج اُن کی آمد کی رات ہے جو سوتے ہوؤں کو جگانے، روتے ہوؤں کو ہنسانے کے لئے تشریف لائے *آج اُن کی آمد کی رات ہے جو گرنے والوں کو اُٹھانے، دِلوں  کو کو زِندہ فرمانے کے لئے تشریف لائے *آج اُن کی آمد کی رات ہے جو دو جہاں کے مالِک و مختار،  گنہگاروں کی شفاعت فرمانے والے، اللہ پاک کے حبیب و محبوب و خلیل بن کر تشریف لائے ہیں۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

بارگاہِ رسالت میں مقبول کتاب

9 وِیں صدی ہجری کے ایک بزرگ ہیں: حضرت علّامہ محمد بن قاسِم رَصَّاع رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ آپ اپنے دور کے بہت بڑے عالِم  اور قاضِی(Judge) تھے۔ آپ نے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے پیارے پیارے ناموں سے متعلق ایک کتاب  لکھی ہے جس کا نام ہے: تَذْکِرَۃُ الْمُحِبِّیْن بہت پیاری کتاب ہے اور یہ کتاب ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی پاک بارگاہ میں مقبول بھی ہے۔ ایک بزرگ رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں یہی پیاری پیاری کتاب پڑھ رہا تھا، پڑھتے پڑھتے مجھے نیند آ