Book Name:Pyary Aaqa K Pyary Naam
گئی، ظاہِری آنکھیں بند ہوئیں، دِل کی آنکھیں کھل گئیں، الحمد للہ! مجھے خواب میں پیارے ناموں والے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی، مکی مدنی، مُحَمَّدِ عربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی زیارت نصیب ہوئی، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ایک جگہ تشریف فرما تھے، صحابۂ کرام علیہم ُ الرِّضْوان اردگرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے، الحمد للہ! میں نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے قدموں کو چومنے کی سعادت حاصِل کی، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مجھے اپنی اس مبارک مجلس میں بیٹھایا، مجھ سے تِلاوت بھی سُنی اور یہی کتاب یعنی تَذْکِرَۃُ الْمُحِبِّیْن جو میرے ہاتھ ہی میں تھی، اس کے بھی کئی صفحات سُنے، پِھر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اُٹھ کر تشریف لے گئے، جب میں نیند سے جاگا تو خوشی کے مارے آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیسی خوش نصیبی کی بات ہے، اللہ پاک ہمیں بھی خواب میں دیدارِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی سعادت نصیب فرمائے۔
پیارے اسلامی بھائیو!اس پیاری اور بارگاہِ رسالت کی مقبول کتاب کے صفحہ: 52 پر علّامہ محمد بن قاسِم رصّاع رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ لکھتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا، بہت ہی گنہگار تھا، نیکی کی جانِب تو کبھی بڑھتا ہی نہیں تھا، بس دِن رات گُنَاہوں ہی میں گزارتا چلا جا رہا تھا، عمر ساری یونہی گُنَاہوں میں گزری، آخر ایک دِن اس کا وقتِ آخر آ ہی گیا، حضرت ملک الموت عَلَیْہِ السّلام تشریف لائے، رُوح قبض ہوئی اور یہ بندۂ گنہگار موت کے رستے قبر کی سیڑھی اُتر گیا۔ مرنے کے بعد کسی نے اسے خواب میں بہت ہی اچھی حالت میں دیکھا،